مہاراشٹر حکومت میں وزیر نتیش رانے۔ (فائل فوٹو)
مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے، جو ماہی پروری اور بندرگاہوں کی ترقی سے متعلق وزارت کا قلم دان رکھتے ہیں، پیر کو جھٹکا گوشت کی دکانوں کو خصوصی ’’ملہار سرٹیفکیٹ‘‘ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا یہ سرٹیفکیٹ صرف ہندوؤں کو ہی جاری کیا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتا نے کہا کہ ’’ملہار سرٹیفیکیٹ‘‘ سے ہندوؤں کو ایسی دکانوں کی شناخت میں مدد ملے گی جو کہ ہندوؤں کی ملکیت والی ہیں اور جہاں بغیر کسی ملاوٹ کے ’’جھٹکا گوشت‘‘ فروخت ہوتا ہے۔
اس پہل کا مقصد
مہاراشٹر کے ریاستی کابینہ کے وزیر کے ذریعے یہ سرٹیفکیٹ ’’حلال سرٹیفیکیشن‘‘ کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حلال سرٹیفکیٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرکے گوشت تیار کیا جائے۔ وہیں ’’جھٹکا گوشت‘‘ کی اصطلاح گوشت کی تیاری کے اس طریقے سے متعلق ہے جو ہندو اپناتے ہیں۔
کیا ہے ملہار سرٹیفکیشن؟
نتیش رانے کے ذریعے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ملہار سرٹیفیکیشن ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب گوشت کو ہندو روایات کے مطابق جانوروں کو ذبح کرکے تیار کیا جاتا ہے اور اسے دوسرے جانوروں کے گوشت کے ساتھ نہیں ملایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’یہ گوشت خاص طور پر ہندو کمیونٹی کے دکانداروں کے یہاں ہی دستیاب ہوگا‘‘۔
واضح رہے کہ یہ ’’ملہار سرٹیفیکیشن‘‘ کوئی سرکاری حکم یا قدم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نجی پہل ہے۔ تاہم بی جے لیڈر رانے نے ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ اس قدم پر دھیان دیں اور ایسی دکانوں طرف دیکھیں بھی نہیں، جن کے پاس یہ سرٹیفکیٹ نہ ہو۔ انھوں نے کہا ’’یہ اقدام ہندو تاجروں کو بااختیار بنائے گا۔ اور میں ہندوؤں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایسی دکانوں سے مٹن اور چکن خریدنے سے گریز کریں جن کے پاس ملہار سرٹیفیکیشن نہیں ہے۔‘‘
ملہار سرٹیفکیشن ویب سائٹ پر مہاراشٹر کے مختلف حصوں میں جھٹکا گوشت فروخت کرنے والی چند ویب سائٹس کے نام اور پتے بھی درج ہیں۔ نتیش رانے کے بیان کے بعد حمایت ومخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ ان کے حامی اس کی حمایت کررہے ہیں جبکہ مخالفین میں ان کے خلاف ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس پرسوال اٹھایا ہے۔ آپ کوبتادیں کہ نتیش رانے اکثراپنے بیانوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں اور متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


