سی ایم یوگی سے ملاقات کے بعد برج بھوشن سنگھ نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
بی جے پی کے سینئرلیڈربرج بھوشن سنگھ نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی تھی۔ دونوں لیڈران کے درمیان یہ ملاقات تقریباً تین سال بعد ہوئی۔ برج بھوشن سنگھ نے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ یوگی آدتیہ ناتھ اسٹیٹ کے سی ایم ہیں تو ملاقات توہونی ہی چاہئے۔ آج برج بھوشن سنگھ نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میں خود سی ایم سے ملنے نہیں گیا تھا، بلکہ سی ایم نے ملنے کی خواہش ظاہرکی تھی۔ انہوں نے ملنے کے لئے بلایا تومیں چلا گیا۔
قیصرگنج لوک سبھا سیٹ سے ایم پی رہے برج بھوشن سنگھ ایک دن پہلے 21 جولائی کوسی ایم ہاؤس پہنچے تھے۔ تقریباً تین سال بعد برج بھوشن سنگھ نے سی ایم یوگی سے ملاقات کی جو تقریباً ایک گھنٹے تک چلی تھی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ سی ایم یوگی اسٹیٹ کے سی ایم ہیں، ملاقات تو ہونی ہی چاہئے۔
دونوں لیڈران کے درمیان 30 منٹ تک ہوئی تھی بات چیت
ان دونوں لیڈران کے درمیان ہوئی ملاقات نے یوپی کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ بھلے ہی اسے ایک عام ملاقات بتا رہے ہوں، لیکن سوال یہ اٹھ رہے ہیں کہ آخر یہ تین سال بعد ہی کیوں ہوئی؟ دونوں لیڈران کے درمیان تقریباً 25 منٹ تک ملاقات چلی۔
سی ایم یوگی سے تلخ رہے ہیں رشتے
برج بھوشن سنگھ اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان رشتوں کی بات کریں تو پہلے کافی تلخ رہے ہیں، لیکن سامنے نظرنہیں آتے تھے۔ برج بھوشن سنگھ کا شمارپروانچل کے قدآورلیڈران میں ہوتا ہے۔ وہ ٹھاکرطبقے سے آتے ہیں اورپورے پروانچل میں سیاسی دبدبہ بھی ہے۔ اب ان کے اور سی ایم یوگی کے درمیان ناراضگی کی برف پگھلنے لگی ہے۔
لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے بیٹے کو دیا تھا ٹکٹ
لوک سبھا الیکشن 2024 میں بی جے پی نے برج بھوشن سنگھ کی جگہ ان کے بیٹے کو ٹکٹ دیا تھا۔ برج بھوشن سنگھ کا شمارآج بھی یوپی میں بی جے پی کے بڑے لیڈران کے طورپرہوتا ہے۔ 6 بار سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔ بی جے پی کے علاوہ سماجوادی پارٹی سے بھی جڑے رہے ہیں۔ وہ پروانچل میں اپنے آپ میں ایک پارٹی سمجھے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

