بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر امت مالویہ نے قومی دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کے لیے عام آدمی پارٹی (عآپ) کی حکومت والی پنجاب حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، مالویہ نے دعویٰ کیا کہ دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کا بنیادی سبب پنجاب میں پرالی جلانا ہے، دیوالی یا پٹاخے نہیں۔ انہوں نے دہلی کی خراب ہوا کے معیار کے لیے عام آدمی پارٹی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پرالی جلانے پر پارٹی کی عدم فعالیت روایتی تہوار کی تقریبات سے زیادہ آلودگی میں اضافہ کرتی ہے۔
امت مالویہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا
انہوں نے ایکس پر ٹوئٹ کیا کہ ’’جب تک اروند کیجریوال کے زیر اقتدار پنجاب پرالی جلانا بند نہیں ہوتا، دہلی اور این سی آر کا دم گھٹتا رہے گا۔ دیوالی کو عام آدمی پارٹی کے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرانا بند کریں- یہ ان کا دھواں ہے جو دہلی کے آسمان کو سیاہ کر رہا ہے، تہوار کے دیے یا پٹاخے نہیں۔‘‘
Unless Arvind Kejriwal–ruled Punjab stops burning stubble, Delhi and NCR will continue to choke.
Stop blaming Deepawali for the sins of the Aam Aadmi Party — it’s their smoke, not the festival’s lamps or firecrackers, that darkens Delhi’s skies.
Their dark shadow still looms…
— Amit Malviya (@amitmalviya) October 21, 2025
دہلی کے رہائشیوں کو سانس لینے میں دشواری
دیوالی کے بعد دہلی کی فضا ایک بار پھر زہریلی ہو چکی ہے۔ ہر طرف دھند اور دھواں چھایا ہوا ہے۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) ’انتہائی خراب‘ زمرے میں پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال ہر سال دیکھنے کو ملتی ہے۔ دیوالی کے بعد منگل کی صبح دہلی میں شدید دھند چھا گئی۔ کئی علاقوں میں اے کیو آئی ’انتہائی خراب‘ سے ’شدید‘ زمرے میں چلا گیا۔ سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق، دہلی کا اوسط اے کیو آئی 359 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تشویشناک ہے۔ بوانا میں 432، جہانگیرپوری میں 405، اشوک وہار میں 408 اور وزیر پور میں 408 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سب ’شدید‘ زمرے میں ہیں۔ اس آلودگی سے دہلی کے رہائشیوں کو سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن کا سامنا ہے۔ یہ صحت کے لیے خطرناک ہے۔ سپریم کورٹ نے گرین پٹاخوں کی فروخت کی اجازت دی تھی۔ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے GRAP کا فیز 2 نافذ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
