حال ہی میں جموں و کشمیر کے پہلگام ضلع میں ایک سیاحتی مقام پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔ اس حملے میں 26 سیاح مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر ایک متنازع بیان دیا تھا۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بلاول بھٹو کے بیان پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، “اس سے کہو کہ وہ اپنی دماغی حالت چیک کرائے، وہ کس قسم کے بیانات دے رہے ہیں؟ بہت ہوگیا، اب ہم یہ سب برداشت نہیں کریں گے۔ اب کچھ دن انتظار کریں۔”
#WATCH | Mohali: On Pakistan Peoples Party Chairman Bilawal Bhutto-Zardari’s statement on the suspension of the Indus Water treaty, Union Minister Hardeep Singh Puri says, “Tell him to get his mental condition checked, what kind of statements he is giving. Enough is enough…Now… pic.twitter.com/jXUR9J4I5w
— ANI (@ANI) April 26, 2025
بلاول بھٹو نے کیا کہا؟
پاکستانی سیاستدان بلاول بھٹو نے بھارت کو کھلی دھمکی دے تھی۔ بلاول نے کہا کہ یا تو اب دریائے سندھ میں پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا، دریائے سندھ ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ بلاول بھٹو اس سے قبل بھی کئی بار اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ ادھر ہندوستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی پر قابو نہیں پاتا، اس کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ خیال رہے کہ پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ہندوستانی حکومت ایکشن موڈ میں ہے۔
14 مقامی دہشت گردوں کی فہرست جاری
جموں و کشمیر کے پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد خفیہ ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں سرگرم 14 مقامی دہشت گردوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ افراد جن کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان ہیں، پاکستان سے غیر ملکی دہشت گردوں کو لاجسٹک اور زمینی مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ شناخت کیے گئے کارندوں کا تعلق پاکستان کی حمایت یافتہ تین بڑی دہشت گرد تنظیموں: حزب المجاہدین، لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) اور جیش محمد (جے ایم) سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں سے تین کا تعلق حزب المجاہدین سے، آٹھ کا لشکر طیبہ سے اور تین کا جیش محمد سے تعلق ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

