Bharat Express DD Free Dish

Bharat Literature Festival: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے کا بھارت لٹریچر فیسٹول سے خطاب

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے ‘نئے دور کی خواتین’ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی جدوجہد، خوابوں اور فطرت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور معاشرے میں تبدیلی لانے میں خواتین کے کردار پر زور دیا۔

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے

بھارت لٹریچر فیسٹیول کا چوتھا سیزن آج (26 مارچ) دہلی یونیورسٹی کے مرانڈا ہاؤس میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ اس دوران بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے نے بھی شرکت کی۔ سی ایم ڈی اپیندر رائے نے ‘نئے دور کی خواتین’ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سی ایم ڈی اپیندر رائے نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے اب بھی کوئی ادارہ بنانے، کوئی اسکیم بنانے اور اس پر بحث کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ ہم خواتین کی جدوجہد، خوابوں اور کامیابیوں پر کیوں بحث کرتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ لوگ کسی کے بارے میں بات کریں کیونکہ اس کے بارے میں بات کرنے کو کچھ ہے۔ بات نہ ہو تو شاید بات کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ بات یا تو کامیابی کی ہے یا ناکامی کی۔ بات یا تو مضبوط لوگوں کی ہوتی ہے، یا سب سے زیادہ کمزور شخص کی جس کے لیے ہمدردی امڈ رہی ہوتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کی تبدیلی میں سب سے کم کردار وہ لوگ ادا کرتے ہیں جو معاشرے کے نچلے درجے پر ہوتے ہیں کیونکہ معاشرے میں اتار چڑھاؤ ہو، مہنگائی ہو، غربت ہو ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ لوگ سہن کرجاتے ہیں۔ دوسری صورت حال ان افراد کی ہے جو بہت امیرہیں، لیکن انقلاب کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے یعنی متوسط طبقہ اور انقلاب ہمیشہ یہی متوسط ​​طبقہ لاتا ہے۔

’’ہمیں خواتین سے متعلق بات کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟‘‘

سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے مزید کہا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں خواتین کے بارے میں بات چیت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس لیے اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عورت کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ جسے دے اسے سب کچھ دے دیتی ہے۔ جب عورت محبت کرتی ہے تو ناپ تول کے محبت نہیں کرتی۔ وہ عقیدت سے پیار کرتی ہے، لیکن مرد حساب سے محبت کرتا ہے۔ مرد محبت کرتے ہوئے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن عورت محبت کرتے ہوئے سب کچھ کھونا چاہتی ہے۔ ہارنے کا یہ جنون مرد کو طاقتور بناتا ہے اور عورت کو شکست کا احساس دلاتا ہے۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ مردوں نے عورتوں کو بہت گہرا دھوکہ دیا ہے، کیونکہ جس عورت سے مرد نے جنم لیا، آج پوری دنیا میں یہ بحث ہے، آج ایسا نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپ میں عورتوں کی حالت بہت اچھی ہے، کسی زمانے میں امریکہ میں عورتوں کی حالت ہندوستان سے بھی بدتر تھی۔ یورپ میں حالات بد سے بدتر تھے۔ ہندوستان کی خواتین کے بعد امریکہ اور یورپ کی خواتین کو ووٹ کا حق ملا۔

اپیندر رائے نے کہا کہ ’’اگرچہ ہم وشوا گرو ہونے پر فخر کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس چیلا برابر بھی اوقات نہیں ہے کیونکہ جو وشوا گرو کے جو پہمانے ہیں، وہ کبھی رہا ہوگا بھارت۔ علامہ اقبال کا ایک شعر ہے کہ ’’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا دشمن دورے جہاں ہمارا… تو پہلے کبھی تھی ایسی حالت، ہمارے عظیم بزرگوں نے ایسی کوشش کی۔ یہاں تک کہ مہاتما بدھ کو خواتین کو سنگھ میں لینے میں ایک بڑا مسئلہ تھا، انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر خواتین کو سنگھ میں لے لیا جائے تو سنگھ 500 سال سے زیادہ نہیں چل سکے گا۔

آدی شنکراچاریہ نے عورتوں کے بارے میں اچھی شلوک بھی لکھے اور منو نے تو عورتوں کو جہنم کی کان تک بتایا۔ لیکن منو نے یہ بھی لکھا کہ جہاں عورتوں کی پوجا کی جاتی ہے، وہاں دیوتا بستے ہیں۔ تو ایک بڑی کشمکش تھی کہ ہماری پوری نفسیات میں اور ہمارے باباؤں کی نفسیات میں مخمصہ بنا کر رکھا تھا… تو ایک کشمکش پیدا ہو گئی کہ ہم کن چیزوں سے آزاد ہونا ہے؟ دنیا سے آزاد ہونا ہے، دنیا ایک سراب ہے، روپیہ پیسے سے آزاد ہونا ہے۔ ہوس ایک وہم ہے۔ ہمارے ہندوستانی ادب میں، کامدیو، ہوس کے دیوتا کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن ہوس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ ہوس مرد سے پیدا ہوتی ہے۔ شہوت بھی عورت سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہمارے اندر لالچ ہے تو تاریخ میں یا ہمارے ادب میں لالچ کا دیوتا نہیں ہے۔ غصے کا کوئی دیوتا نہیں ہوتا، حالانکہ جب غصہ آتا ہے تو درواسا کا نام ضرور ذہن میں آتا ہے، لیکن کسی اور کو یاد نہیں آتا،… اس لیے ہم نے ان چیزوں سے آزاد ہونے کے بجائے عورت کا انتخاب کیا، اور ہمارے سادھو سنیاسی نے عورتوں کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم کیا۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اگر دنیا کی آدھی آبادی خاموش اور بے بس رہی تو باقی آدھی آبادی بھی دنیا کو خوبصورت نہیں بنا سکے گی۔ جب آدھی آبادی مضبوط ہو جائے گی، جب مائیں بہنیں مضبوط ہو جائیں گی، جب وہ ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر بولنے کے قابل ہو جائیں گی، تب میں سمجھتا ہوں کہ یہ دنیا حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگی۔

سی ایم ڈی نے اپنے خاندان کے متعلق بتائی یہ بات

سی ایم ڈی اپیندر رائے نے کہا، ’’21 سال پہلے جب میری شادی ہوئی تھی  تو میری بیوی اپنا نام رچنا لکھتی ہے، وہ اس سے پہلے یا بعد میں کچھ نہیں لکھتی، تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے پہلے یا بعد میں کچھ لکھ دینا چاہئے، آئی آئی ٹی سے پی ایچ ڈی بھی ہو، میں نے کہا، ڈاکٹر ہی لگا دو، تو وہ بولیں کہ کیا ضرورت ہےڈاکٹر لگانے کی کی ۔ بعد میں جب میری پہلی بیٹی ہوئی، تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کا بھی سرنیم  نہیں لکھا جائے گا، تو میں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے نہی لکھا جائےگا۔ میں نے اس قدر آسانی کے ساتھ جواب دیا کہ وہ حیرانی ہوئی کہ یہ رائے سرنیم لگانے کے لیئے ذرا بھی لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں۔ ایک دم آسانی سے ہاں کر دی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اتنی آسانی سے کیسے آپ مان  گئے؟ تو میں نے کہا کہ میں تماری  بات کا احترام کیا۔ پھر سات سال بعد جب ہمارا بیٹا پیدا ہوا 21 مئی 2012 کو، تب نام رکھنے کی بات چلی تو میں نے کہا کہ سادیانت رکھتے ہیں، بھگوان وشنو کا نام ہے، تو انہوں نے کہا کہ اس کی بہن راگ کوشل سیکھ رہی ہے تو آگے کوشل لگات دیتے ہیں۔ اس پر میں نے ہاں کر دی اور بیٹے کا نام سادیانت کوشل رکھا گیا… تو خواتین کے ذہنوں میں اس قدر شک ہے کہ میری آسان قبولیت بھی اس کے لیے مشکوک معلوم ہوئی۔ اگر میں اس کی بات کو ٹال کر اس سے لڑتا تو اسے شاید زیادہ خوشی ملتی۔ حالانکہ، بعد میں، ایک یا دو بار، رشتہ داروں نے ٹوکا  کہ آپ نے سرنیم نہیں لگایا، تو یہ کمال کی بات ہو گئی۔ تو یہ بھی عورت کی فطری، سادہ طبیعت ہے۔ اس کو بھروسہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ اسے کوئی چیز آسانی سے کچھ مل گیا ہے۔اتنا تڑپا کر  اور لڑا کر قدم قدم پرخواتین کو دیا گیا ہے کہ اسے ملی ہوئی ہر چیز انعام لگتا ہے۔

چین میں خواتین کو پہلے نبھانی پڑتی تھی یہ روایت

سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے مزید کہا، ’’چین میں 70 کی دہائی میں اگر کوئی قتل کر دیتاتو اس کے خلاف پولیس کیس درج نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جب چین میں اعلیٰ طبقے کے گھرانوں کی خواتین  تھی ، وہ جب پ یدا ہوتی تھی تو انہیں لوہے کے جوتے پہنا ئے جاتے تھے،کیونکہ جب اس کے پاؤں کی نشوونما نہیں ہوگی تو جب وہ کسی محفل میں جائے گی تو مرد کے کندھے کا سہارا لے کر چلے گی۔  اکیلی نہیں چلے گی، اگر اکیلے چلنے کی کوشش کرے گی تو چار پانچ قدم چلنے کے بعدگر جائے گی۔ اس لیے جس معاشرہ میں خواتین پر قبضہ کرنے کی لڑائی ہو ، وہ معاشرہ کیسے ترقی کرے گا ؟آج سے 80 سال پہلے حیدرآباد کے نظام کے پاس 500 رانیاں تھیں۔ کیونکہ اس زمین پر طاقتور ترین انسان کے دو نشان ہیں۔‘‘

’’جس کے پاس مالی طاقت، وہی مالک‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا، “جس کے پاس مالی طاقت ہے وہی آج مالک ہے، مرد ہو یا عورت، وہ اکیلےکھڑا رہے، تووہ ٹوٹ جائے گا، لیکن وہ معاشرے کے ساتھ کھڑا ہے تو وہ زندہ رہ سکتا ہے، میں بہت ساری خواتین کو جانتا ہوں، دنیا کے 87 ممالک ہو کر میں آیا ہوں، دنیا کو ٹھیک سے دیکھاہوں۔ آج ہمارے آپ کے گھروں میں خواتین کو گمراہ کر کےبغیر دروازوں کے بند کر دیا جاتا ہے۔ ان کو اپنے من کی بات کرنےسے روکا جاتا ہے۔ خواتین کو اڑنے کے لیے پنکھ دینے چاہئیں، آسمان وہ خود بنا لیتی ہیں۔ خدا نے مرد اور عورت کو مختلف طریقے سے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حقیقت کو یکسر مسترد کرتا ہوں کہ پہلے کا دور بہتر تھا۔ میں کہتا ہوں آج کا زمانہ اچھا ہے۔ آج موبائل کا بٹن دبانے سے ہی ہمیں تمام آسائشیں اور سہولیات میسر ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہم جانوروں کے گوبر سے دانے نکالتے تھے۔ آج ہم ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں۔ آج امریکہ ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ ایسا اس لئے کیونکہ  وہ یہ نہیں پوچھتے کہ آپ کس ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read