Urdu Conclave 2026

Bharat Literature Festival 2025

غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 کا افتتاح ادب، ثقافت اور مکالمے کی میراث کے لیے وقف ہوا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ملک کے اسکالرز، ادیبوں اور فنکاروں نے اس تقریب کو بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی۔

وارانسی میں غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 کا افتتاح کیا گیا۔ آچاریہ پون ترپاٹھی نے ادب اور روحانیت کے رشتے پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو کتابیں پڑھنے اور ثقافت کو سمجھنے کا مشورہ دیا۔

بی جے پی کے قومی ترجمان پریم شکلا نے غازی پور لٹریچر فیسٹیول میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اوپیندر رائے کی تعریف کی اور اس تقریب کو نوجوانوں کے لیے ایک تحریک قرار دیا۔

غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 جمعہ کو وارانسی کے ہوٹل دی کلارکس میں شروع ہوا۔ تین روزہ عظیم الشان فیسٹیول کا افتتاح بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور چیف ایڈیٹر اپیندر رائے نے چراغ جلا کر کیا۔ لٹریچر فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا اور ماحول مکمل طور پر ثقافتی رنگوں میں ڈوب گیا۔

اپیندر رائے نے بیرونِ ملک بسے بھارتیوں کی قیادت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: سندر پچائی یا ستیا نڈیلا نے کبھی بھارت کی بات نہیں کی۔ کیونکہ وہ خود کو بھارتی مانتے ہی نہیں۔ بھارت کی بات وہی کرے گا، جو دل سے بھارتی ہو۔

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے 'نئے دور کی خواتین' کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی جدوجہد، خوابوں اور فطرت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور معاشرے میں تبدیلی لانے میں خواتین کے کردار پر زور دیا۔

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک اور بھارت لٹریچرفیسٹیول کے ذریعہ دہلی واقع مرنڈا ہاوس میں ثقافتی تقریب منعقد کی جائے گی۔ سی ایم ڈی اور چیئرمین اپیندر رائے اور کئی نامور ادیب شرکت کریں گے۔

آج مرکزی وزیر سیاحت اور ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت 'بھارت لٹریچر فیسٹیول' میں آئے۔ یہاں انہوں نے بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اوپیندر رائے سے ملاقات کی۔

اداکار پنکج ترپاٹھی نے آج بھارت لٹریچر فیسٹیول میں اپنے تجربات شیئر کئے۔ اس موقع پر انہیں بھارت ایکسپریس کے چیئرمین اپیندر رائے کی طرف سے کتابیں ’ہستکشیپ‘ اور ’نظریہ‘ پیش کی گئیں۔

بھارت لٹریچر فیسٹیول متنوع نقطہ نظر کو پورا کرنے اور تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔فیسٹیول کے متعددسیشن اور ثقافتی تبادلوں سے توقع ہے کہ وہ بامعنی مکالموں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور فکری افق کو وسیع کریں گے۔