گجرات کے احمد آباد میں جمعرات کو ایک طیارہ حادثہ پیش آیا۔ احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والا طیارہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی قریبی بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے، جن میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی سمیت عملے کے 12 ارکان بھی شامل تھے۔ حادثے کی وجہ سے طیارے میں سوار 241 افراد ہلاک ہو گئے اور صرف ایک شخص زندہ بچا۔
جمعہ کو بھارت ایکسپریس چینل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) اوپیندر رائے نے اس حادثے اور بوئنگ طیارے کے بارے میں اپنی صحافتی یادیں اور حادثے کا تجزیہ بھارت ایکسپریس چینل کے ذریعے ناظرین کے ساتھ شیئر کیں۔ سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا ’’میں سامعین کو 2007 میں لے جانا چاہتا ہوں، اس حادثے سے چند سال پہلے۔ تاریخ 20 جولائی 2007 تھی۔ تب میں اس ٹیم کا ممبر تھا جو سول ایوی ایشن کو کور کرتا تھا۔ بی تلسی داس اس وقت ایئر انڈیا کے چیئرمین تھے اور ایئر انڈیا حکومت کی ایک PSU کمپنی تھی۔ ہم لوگ ڈریم لائنر 787 اور بوئنگ 777 کی ڈیلیوری لینے گئے تھے۔ تب ایئر انڈیا نے طے کیا تھا کہ کچھ منتخب سول ایوی ایشن کور کرنے والے صحافیوں کو ایئر انڈیا ساتھ لے کر جائے گا۔‘‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’’میں بھی اس وفد کا رکن تھا۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں معلوم ہوا کہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی ڈیلیوری میں دو سے تین سال کی تاخیر ہو گی کیونکہ کچھ ایسا تھا جس کو درست کرنا تھا۔ تب بوئنگ نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ بوئنگ 787 سب سے طاقتور طیارہ ہوگا۔ 26 جولائی 2007 کو ہم نے بوئنگ کی سی ایٹل فیکٹری سے اڑان بھری اور بوئنگ 777 کے ساتھ 14 گھنٹے 15 منٹ میں آئی جی آئی ایئرپورٹ پر اترے۔ وہاں طیارے کے لیے پوجا کی گئی تھی۔‘‘
جب پیرس ایئر شو میں ہوئی تھی ڈریم لائنر کی نمائش
بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی نے اپنے ایک خاص سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا “میری ایک یاد اس سے وابستہ ہے، اس لیے میں نے سوچا کے ناظرین کے ساتھ اسے شیئر کروں۔ اس وقت سول ایوی ایشن کے وزیر پرفل پٹیل تھے۔ اس ٹیم میں ایڈیٹر سمیت تقریباً 12 صحافی تھے۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے بعد ایک بہت ہی طاقتور طیارہ ہے۔ اس کے بعد بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ساتھ میری اگلی یاد تب کی ہے، جب میں پیرس ایئر شو میں گیا تھا۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’یہ 15 جون 2000 کی بات ہے، اس وقت میری اہلیہ بھی میرے ساتھ تھیں۔ تب ڈریم لائنر کی بھی نمائش ہوئی تھی۔ اس کے حوالے سے یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ایک ایسا طیارہ ہے جو اب تک سب سے محفوظ اور طاقت ور طیارہ ہے۔ اس طیارے کا خودکار پائلٹ سسٹم اتنا بہترین ہے کہ اگر ایک بار ٹیک آف کرنے کے بعد اسے خودکار پائلٹ موڈ پر ڈال دیا جائے، اس کے بعد پائلٹ اسے ٹچ بھی نہ کرے تو بھی یہ محفوظ لینڈنگ کر سکتا ہے۔ مطلب کسی بھی صورت میں کریش نہیں ہوگا۔‘‘
اس طیارے کے حوالے سے جو رپورٹس آ رہی ہیں کہ دنیا میں پہلی بار 787 ڈریم لائنر کی ڈیلیوری 2010 کے بعد شروع ہوئی، تب سے اب تک یہ پہلا طیارہ ہے جو گر کر تباہ ہوا ہے۔ ہندوستانی سرزمین پر اتنا بڑا حادثہ پیش آیا ہے، وہ بھی بوئنگ کی جانب سے سب سے محفوظ طیارہ قرار دیئے جانے والے طیارے کا حادثہ۔ یہ واقعی چونکانے والی بات ہے۔
انھوں نے کہا ’’میں کل سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں نے بہت سے پائلٹوں سے طیارہ گرنے سے متعلق جانکاری لی۔ اس حوالے سے میں نے سابق سول ایوی ایشن وزرا سے بھی بات کی۔ جو بات نکل کر آ رہی ہے، ہو سکتا ہے میں غلط ہوں، لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ طیارہ کہیں نہ کہیں انسانی غلطی کی وجہ سے کریش ہوا ہے۔ یہ غلطی کیا ہو سکتی ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔‘‘
تکنیکی خرابی بھی ہو سکتی ہے حادثے کی وجہ
سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے اس حادثے میں اپنی جان گنوانے والے کیپٹن سمیت سبھروال کے دوست سے بھی بات کی۔ بات کی جو حادثے میں مر گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سمیت سبھروال کے دوست، جو ابھی بھی ایئر انڈیا میں پائلٹ ہیں، وہ ابھی اس وقت دہلی سے لند ڈریم لائنر طیارہ لے کر جا رہے ہیں۔ آسمان میں وہ اس وقت ایران کی سرحد عبور کر رہے ہوں گے۔ ان سے میری بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ سمیت سبھروال 8200 گھنٹے پرواز کر چکے تھے۔ وہ ہندوستان کے چند بہترین پائلٹس میں سے ایک تھے۔ انھوں نے انسانی غلطی کی بات کو رد کر دیا۔ ان کے مطابق کوئی نہ کوئی ایسا تکنیکی مسئلہ ہوا جس کی وجہ سے طیارہ اچانک ایلٹی ٹیوڈ کھوتے ہوئے سیدھے میڈیکل کالج کی عمارت پر گر گیا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’لیکن جن پائلٹس نے سمیت سے دوگنا زیادہ فلائٹ کر چکے پائلٹس کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ لینڈنگ گیئر کا فلیگ پھنسا ہوتا ہے۔ کئی بار دو تین مرتبہ چیک کے بعد بھی وہ کلیئر نہیں ہوگا۔ حالاں کہ ہے تو یہ حادثہ لیکن لینڈنگ گیئر کے فلیگ کے پھنسے ہونے کی وجہ سے طیارے کو ٹیک آف کے لیے جو تھرسٹ چاہیے تھا وہ بھی ملا، لیکن اس کے بعد کہیں نہ کہیں لینڈنگ گیئر میں دقت آئی اور طیارہ نیچے کی طرف آنے لگا اور میڈیکل کالج کی عمارت سے جا ٹکرایا۔‘‘
اس حادثے نے مجھے حیران کر دیا
سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے مزید کہا کہ ’’اس حادثے کی کئی سطحوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انٹرنیشنل ایوی ایشن ریگولیٹر کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکن فیڈرل اتھارٹی اور انڈیا کے ڈی جی سی اے بھی اس حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے لیکن اپنے کیرئیر میں 10 سال سول ایوی ایشن میں کام کرنے اور تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد میں بھی حیران ہوں کہ دنیا کا محفوظ ترین طیارہ 52 سیکنڈ میں کیسے جل کر راکھ ہو گیا۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’کہیں نہ کہیں جب جہاز کو دو تین مرتبہ چیک کے بعد گرین سگنل دیا جاتا ہے کہ طیارہ اب اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے، اس کے بعد کوئی نہ کوئی چوک ہوئی ہے، جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ حالاں کہ میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لیکن میں نے اپنے صحافتی سفر کے دس سال سول ایوی ایشن کو دیے ہیں، اس لیے یہ بات بہت یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کوئی انسانی غلطی ہوئی ہے۔‘‘
انھوں نے بتایا کہ ’’دنیا میں پہلی بار بوئنگ کے ساتھ اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا جب 737 میک طیارہ لانچ کیا گیا جو ان کے ایئربس کے نئے جنریشن طیارے کی لانچنگ تھی۔ جو گریٹر روس میں گر کر تباہ ہوا۔ دوسرا طیارہ جنوبی امریکہ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ بھارت ایکسپریس کی جانب سے تمام مرنے والوں کو خراج عقیدت اور ہماری دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
