بابا صدیقی قتل سانحہ میں ممبئی پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے لیڈراور سابق وزیربابا صدیقی کے قتل معاملے کی جانچ ممبئی کرائم برانچ کررہی ہے۔ اس معاملے میں کرائم برانچ کا دعویٰ ہے کہ قتل کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ کا ہاتھ ہے۔ وہیں، اب بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین صدیقی نے سیشن کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انٹروینشن اپلی کیشن داخل کرکے عدالت سے اس معاملے میں اپنا موقف رکھنے کی اجازت مانگی ہے۔ بابا صدیقی کی اہلیہ پولیس جانچ سے مطمئن نہیں ہیں۔
بابا صدیقی کی اہلیہ کے وکیل نے کیا کہا؟
بابا صدیقی کی اہلیہ کے وکیل پردیپ گھرت نے بتایا کہ ہرمقدمے میں دو فریق ہوتے ہیں، ایک ڈیفنس (دفاعی) کا اور ایک پراسیکیوشن کا، اس میں ایک تیسرا فریق بھی ہوتا ہے، جسے انٹروینشن کہا جاتا ہے۔ اسی تیسرے فریق کے طور پر بابا صدیقی کی اہلیہ نے عدالت میں عرضی داخل کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے۔ وکیل پردیپ گھرت نے بتایا کہ معاملے میں چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اگر متاثرہ کو لگا کہ جانچ میں کچھ خامیاں ہیں، ایسی صورت میں وہ عدالت کی اجازت سے اپنا موقف رکھ سکتا ہے۔
بابا صدیقی کا گزشتہ سال ہوا تھا قتل
پردیپ گھرت کے مطابق، بابا صدیقی کی اہلیہ کیس سے متعلق اور جانچ سے متعلق کئی پہلو عدالت میں رکھنا چاہتی ہیں، جس کے لئے انہوں نے عدالت کا رخ کیا ہے۔ وہیں عدالت میں بابا صدیقی کی اہلیہ کے اس انٹروینشن اپلی کیشن کے فیصلے کو محفوظ رکھا ہے اور جلد ہی اس پرعدالت فیصلہ کرے گا۔ بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان صدیقی بھی قتل سانحہ سے متعلق جانچ پر سوال اٹھاچکے ہیں۔
آپ کو بتادیں کہ ذیشان صدیقی کانگریس کے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور حالیہ اسمبلی الیکشن این سی پی کے ٹکٹ پرلڑا تھا، لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ این سی پی لیڈربابا صدیقی کی 12 اکتوبر 2024 کوبدمعاشوں نے گولی مارکرقتل کردیا تھا، جب وہ اپنے بیٹے کے ذیشان صدیقی کے دفتر سے لوٹ رہے تھے۔ اس قتل سانحہ کے بعد مہاراشٹرکے لاء اینڈ آرڈرپرسوال اٹھے تھے۔ اپوزیشن پارٹی نے مہایتی حکومت کونشانے پرلیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

