Bharat Express DD Free Dish

Make in India programme: اشونی ویشنو نے راہل گاندھی کے بیان کو بنیاد بنا کر مودی حکومت کی کامیابی گنوائی، ’میک اِن انڈیا‘ پروگرام کی تعریف

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’میک ان انڈیا‘ کے تحت بھارت نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ عالمی مینوفیکچرنگ میں ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فاکس کون جیسے منصوبوں کو اسی حکمتِ عملی کا عملی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ایک سوشل میڈیا بیان کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جاری ’میک ان انڈیا‘ پروگرام کی بھرپور ستائش کی ہے۔ اس پیش رفت کو سیاسی حلقوں میں ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ راہل گاندھی عام طور پر مودی حکومت کی پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔

راہل گاندھی کا بیان: روزگار اور خواتین کی شمولیت پر زور

راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کرناٹک میں قائم فاکس کون (Foxconn) کے نئے آئی فون اسمبلی یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ محض آٹھ سے نو ماہ میں تقریباً 30 ہزار افراد کو ملازمت دیا جانا بھارت میں فیکٹریوں کے تیز ترین قیام کی مثال ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اس یونٹ میں تقریباً 80 فیصد خواتین کام کر رہی ہیں، جن کی بڑی تعداد کی عمر 19 سے 24 سال کے درمیان ہے اور یہ ان کی پہلی ملازمت ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ باوقار روزگار کی ایک مضبوط مثال ہے۔

اشونی ویشنو کا ردعمل: ’میک اِن انڈیا‘ کی توثیق

راہل گاندھی کے اسی بیان کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے اشونی ویشنو نے کہا: ’’راہل گاندھی کا شکریہ کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی جی کے ’میک ان انڈیا‘ پروگرام کی کامیابی کو تسلیم کیا۔ جیسا کہ آپ نے خود کہا، بھارت تیزی سے ایک پیداواری معیشت بن رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن پر عمل کرتے ہوئے ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہی ہے اور عالمی سطح پر بھارت کو ایک مضبوط صنعتی مرکز کے طور پر قائم کر رہی ہے۔

فاکس کون فیکٹری: روزگار، خواتین اور برآمدات

اطلاعات کے مطابق فاکس کون کا یہ یونٹ بنگلورو کے قریب واقع ہے، جہاں تیار ہونے والے آئی فونز کا 80 فیصد سے زائد حصہ برآمد کے لیے مختص ہے۔ فیکٹری کو خواتین دوست سہولتوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں ہاسٹل، بنیادی سہولتیں اور محفوظ کام کا ماحول شامل ہے۔ یہ منصوبہ چین کے متبادل کے طور پر بھارت کو عالمی سپلائی چین میں مضبوط مقام دلانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی معنی: حکومت اور اپوزیشن کے بیانات کا ملاپ

سیاسی مبصرین کے مطابق راہل گاندھی کے بیان اور اس پر اشونی ویشنو کے ردعمل نے ایک دلچسپ صورتحال پیدا کی ہے، جہاں اپوزیشن کی جانب سے کسی منصوبے کی تعریف کو حکومت نے اپنی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ روزگار، مینوفیکچرنگ اور خواتین کی شمولیت جیسے موضوعات پر سیاسی اختلاف کے باوجود قومی اتفاق کی گنجائش موجود ہے۔

’میک اِن انڈیا‘ پر بڑھتی عالمی توجہ

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’میک ان انڈیا‘ کے تحت بھارت نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ عالمی مینوفیکچرنگ میں ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فاکس کون جیسے منصوبوں کو اسی حکمتِ عملی کا عملی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read