باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا کے سب سے خوبصورت رشتوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ یہ رشتہ اکثر کم بولتا ہے، لیکن سب سے زیادہ محسوس کرایا جاتا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کے لیے ایک ڈھال ہوتا ہے، جو خود دھوپ میں کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کی بیٹی پر کبھی آنچ نہ آئے۔ لیکن سوچیں اُس باپ کے بارے میں جس نے اپنی نومولود بیٹی کو دیکھے بغیر ہی اس دنیا کو چھوڑ دیا ہو۔ ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والاواقعہ مہاراشٹر کے ساتارا ضلع میں سامنے آئی، جہاں بیٹی کی پیدائش سے چند گھنٹے قبل ہی والد کی موت ہو گئی۔
والد کی موت کے بعد بیٹی کی پیدائش
بھارتی فوج کے جوان پرمود جادھو چند دن قبل ساتارا میں اپنے گاؤں چھٹی منانے آئے تھے۔ اس دوران ان کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ پورے گھر کو خوشیوں کی گونج کا انتظار تھا، لیکن اس سے پہلے ہی ایک دردناک سڑک حادثے میں پرمود جادھو کی جان چلی گئی۔ جس گھر میں خوشیاں آنے والی تھیں، وہاں اچانک ماتم چھا گیا۔ پرمود جادھو کے انتقال کے چند گھنٹے بعد ہی ان کی اہلیہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ لیکن بیٹی کی قسمت میں والد کا سایہ نہیں لکھا تھا۔ وہ بچی جسے اپنے والد کی کود میں جھولنا تھا، وہ پیدائش کے ساتھ ہی والد کی محبت سے محروم ہو گئی۔
بیوی اسٹریچر پر، بیٹی گود میں
پرمود جادھو کے انتقال کی خبر جیسے ہی گاؤں پہنچی، پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ فوج اور انتظامیہ کی موجودگی میں جب آخری رسومات کی تیاری شروع ہوئی، تو وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ سب سے دل کو جھنجھوڑ دینے والا لمحہ تب آیا، جب اسپتال سے ان کی اہلیہ کو سیدھا اسٹریچر پر آخری دیدار کے لیے لایا گیا۔ چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے بیٹی کو جنم دیا تھا، جسم انتہائی کمزور تھا، لیکن شوہر کو آخری بار دیکھنے کی خواہش انہیں وہاں تک لے آئی۔ان کی آنکھوں سے آنسو تھم نہیں رہے تھے، ہونٹ کانپ رہے تھے اور دل اس ناقابل برداشت درد کو سہنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




