وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فوٹو: اے این آئی)
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے کمانڈروں اور کمانڈوز کے ساتھ بات چیت کی۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ نے چھتیس گڑھ کے نوا رائے پور میں سینئر پولیس افسر آکاش راؤ گری پونجے کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی تھی، جو نکسلیوں کے لیے ذریعے کیے گئے آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے اس دوران ایک بار پھر ہندوستانی حکومت کے 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے نکسلیوں کو تنبیہ کی کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ وزیر داخلہ نے چھتیس گڑھ میں آئی ہب کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے کہا تھا کہ 31 مارچ، 2026 تک یہ ملک نکسل ازم سے آزاد ہو جائے گا اور میں آج اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گا کہ جس طرح سیکورٹی فورسز نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، ہم اس مقصد کو ضرور حاصل کریں گے۔‘‘
نکسلی ہتھیار ڈالیں اور مرکزی دھارے میں شامل ہوں: امت شاہ
انھوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ حکومت کی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی ہتھیار چھوڑنے والوں کو ریاست کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی اجازت دیتی ہے۔ وزیر داخلہ نے ریاستی وزیر اعلیٰ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وشنو دیو سائی نے ایک بہت ہی متاثر کن ہتھیار ڈالنے کی پالیسی تیار کی ہے؛ آؤ اور ہتھیار ڈالو اور چھتیس گڑھ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالو۔۔۔حکومت پر بھروسہ رکھیں۔ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور مرکزی دھارے میں شامل ہوں۔‘‘
انھوں نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے رکی ہوئی نکسل مخالف کارروائیوں کو تیز کرنے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی وشنو دیو اور نائب وزیر اعلی وجے شرما کے تحت اہم کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔ اپنے دورے کے دوران امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقوں کے بچوں سے بھی بات چیت کی اور ریاستی حکومت کی ’لیور اوینا‘ (Liyor Oyna)اسکیم کے تحت انھیں کتابیں تقسیم کیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



