امور داخلہ اورامداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دریائے جمنا کو صاف کرنے، پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور دہلی میں سیویج کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں مرکزی ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر جناب منوہر لال، مرکزی جل شکتی وزیر جناب سی آر پاٹل، دہلی کی وزیر اعلی محترمہ ریکھا گپتا، مرکزی داخلہ سکریٹری، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت اور جل شکتی کی وزارت کے سکریٹری، دہلی کے چیف سکریٹری، اور مرکزی اور دہلی حکومتوں کے کئی سینئر افسران نے شرکت کی۔
جمنا صرف دریا نہیں آستھا کی علامت
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ جمنا صرف ایک دریا نہیں ہے بلکہ آستھا کی علامت بھی ہے، اس کی صفائی مودی حکومت کی ترجیح ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ جل شکتی کی وزارت کو تمام سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کے لیے ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) تیار کرنا چاہیے، ان کے معیار، دیکھ بھال اور اخراج کے لیے معیار قائم کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ایس او پی کو دوسری ریاستوں کے ساتھ بھی شیئر کیا جانا چاہئے۔
منصوبے 20 سالہ وژن کے ساتھ بنائے جائیں
جناب امت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی میں جمنا، پینے کے پانی اور نکاسی کے منصوبے 20 سالہ وژن کے ساتھ بنائے جائیں۔ انہوں نے جمنا کی صفائی میں دہلی جل بورڈ کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور بورڈ میں خالی آسامیوں کو فوری طور پر بھرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اسے مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پانی کی فراہمی کے لیے موثر انتظام ضروری
مرکزی وزیر داخلہ نے دہلی کی پانی کی تقسیم کی کارکردگی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پورے شہر میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پانی کا موثر انتظام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، دہلی میں پانی کی فراہمی کے لیے، جل بورڈ کو پائپ لائنوں میں رساو کو روکنے کے ساتھ پانی کی تقسیم کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہیے۔ جناب شاہ نے نالیوں کو صاف کرنے کے لیے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


