مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اتوار سے انتخابی ریاستوں کے 15 روزہ دورے پر رہیں گے، جہاں وہ اگلے سال آسام، مغربی بنگال، کیرالہ اور تمل ناڈو میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمتِ عملی پر پارٹی لیڈران سے تبادلۂ خیال کریں گے۔
بہار میں این ڈی اے کی جیت کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے ان ریاستوں کے لیے جامع تیاری کر لی ہے۔ پارٹی کی تنظیمی اکائی کے ایک عہدیدار کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ 28 اور 29 دسمبر کو آسام، 30 اور 31 دسمبر کو مغربی بنگال، جنوری کے پہلے ہفتے میں تمل ناڈو اور دوسرے ہفتے میں کیرالہ کا دورہ کریں گے۔
وہ انتخابات تک ہر مہینے ان انتخابی ریاستوں میں کم از کم دو دن گزاریں گے اور انتخابی جیت کی حکمتِ عملیوں پر کام کریں گے۔ آسام کو چھوڑ کر باقی تین ریاستوں میں اس وقت غیر این ڈی اے حکومتیں برسرِ اقتدار ہیں۔
پارٹی کے پنّا پرمکھوں کو فعال بنانے اور ’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘ منصوبے کو نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، وزیر داخلہ امت شاہ اپنے دوروں کے دوران تنظیمی اجلاس کریں گے اور پارٹی کارکنوں سے بات چیت کریں گے۔
بی جے پی لیڈران کے مطابق، وزیر داخلہ امت شاہ حال ہی میں بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شاندار جیت کو دیگر ریاستوں میں دہرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ شاہ بارہا خود کو این ڈی اے کی انتخابی کامیابی کے پیچھے اہم حکمت ساز ثابت کر چکے ہیں۔ انہوں نے این ڈی اے کے قومی انتخابی چہرے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے گرد ریاستوں کے مطابق مہمات نہایت احتیاط سے تیار کی ہیں۔
این ڈی اے اتحادیوں کے ساتھ تال میل کے علاوہ، مرکزی وزیر کے جیت کے فارمولے میں باغیوں سے بات چیت کرنے اور انہیں منانے کی مضبوط حکمتِ عملی بھی شامل ہے، تاکہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ کر اتحاد کے ووٹ شیئر کو نقصان نہ پہنچائیں۔
مانا جاتا ہے کہ بہار انتخابات کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 100 ایسے باغیوں کی بات سنی تھی جو پارٹی مفادات کے خلاف کام کر رہے تھے۔
بی جے پی لیڈران کے مطابق، مرکزی وزیر کا چار ریاستوں کا آئندہ دورہ زمینی حقائق کو سمجھنے اور اپوزیشن پارٹیوں کے بیانیے کا پیشگی مقابلہ کرنے کی ایک کوشش بھی ہوگا۔
پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ بی جے پی دیہی روزگار اسکیم، ’وکست بھارت–جی رام جی‘، روزگار کی شرح اور دیگر سماجی و اقتصادی مسائل پر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کی جانے والی مبینہ جھوٹ کی سیاست کا توڑ نکالنے کی حکمتِ عملی پر بھی کام کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
