Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah Attacks AAP Govt in Punjab: پنجاب میں منشیات کے معاملے پر امت شاہ کا ’عآپ‘ حکومت پر حملہ، بولے- سیاسی سرپرستی کے بغیر نوجوانوں تک نہیں پہنچ سکتا چِٹّا

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پنجاب میں منشیات کے بڑھتے کاروبار کو لے کر عام آدمی پارٹی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نشے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے یا انہیں خودکشی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ شاہ نے سوال کیا کہ جب بندرگاہوں پر بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی جا رہی ہیں تو پھر یہ پنجاب کے نوجوانوں تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو پنجاب میں منشیات کے بڑھتے کاروبار کو لے کر عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر منشیات کی چھوٹی چھوٹی کھیپوں کا پنجاب کے نوجوانوں تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے یا انہیں خودکشی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران امت شاہ نے بتایا کہ انہوں نے منگل کو پنجاب کے گرداسپور، سنگرور اور مانسا کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے منشیات کے خلاف جدوجہد کرنے والے تین افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ ان میں گرداسپور کے 40 سالہ وکرم جیت سنگھ، سنگرور کے گلزار سنگھ اور مانسا ضلع کے پرویندر سنگھ جھوٹا شامل ہیں۔ شاہ نے کہا کہ ان تینوں میں سے بعض کو قتل کر دیا گیا، جب کہ کچھ کو خودکشی کرنی پڑی۔

ان خاندانوں سے مل کر پہلے کبھی اتنا دکھ نہیں ہوا: شاہ

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ وجے دشمی کے موقع پر پنجاب کی پوتر سرزمین سے ریاست اور ملک کے لوگوں کو مبارک باد دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں اس وجے دشمی کو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔‘‘ امت شاہ نے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اسمبلی اور لوک سبھا کے لیے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کی حیثیت سے وہ کئی افسوس ناک واقعات سے متاثرہ خاندانوں سے مل چکے ہیں اور ان کے تئیں تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے، لیکن ان تین خاندانوں سے ملاقات کے بعد انہیں جتنا دکھ ہوا، اتنا پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ان خاندانوں سے ملنے پہنچے تو آس پاس کے علاقوں کے وہ لوگ بھی ان کے گھروں پر موجود تھے، جو چِٹّا نشے کے کاروبار سے پریشان ہیں۔ شاہ کے مطابق، ان لوگوں نے پنجاب میں منشیات کی صورت حال کے بارے میں جو کچھ بتایا، وہ دہلی میں رپورٹوں کے ذریعے ملنے والی معلومات سے کہیں زیادہ تشویش ناک تھا۔

گجرات اور مہاراشٹر کی بندرگاہوں پر 20 ہزار کروڑ روپے کی منشیات ضبط

پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے سلسلے میں گجرات کی بندرگاہوں پر سوال اٹھائے جانے کے معاملے پر امت شاہ نے کہا کہ گجرات اور مہاراشٹر کی بندرگاہوں پر اب تک 20 ہزار کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان منشیات کو ضبط نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ شاہ نے کہا کہ حکومت نے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کام کیا ہے، اس کے باوجود اس پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ بندرگاہوں پر بڑی مقدار میں منشیات ضبط ہونے کے باوجود یہ چھوٹی چھوٹی کھیپوں کی شکل میں پنجاب تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟ یہ ریاست کے نوجوانوں، لڑکوں اور لڑکیوں تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔

پانچ سال بعد بھی پنجاب میں منشیات کا کاروبار جاری: امت شاہ

امت شاہ نے پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اقتدار میں آنے سے پہلے تین ماہ کے اندر منشیات کا کاروبار ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے اور بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے اپنا بیٹا کھویا ہے، کسی نے بھائی اور کسی نے شوہر۔ پنجاب حکومت کو ان خاندانوں کو جواب دینا چاہیے کہ ان کے سوالات کا اس کے پاس کیا جواب ہے۔ شاہ نے الزام لگایا کہ اب تک حکومت کی جانب سے صرف بہانے ہی سننے کو ملے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جب وہ گزشتہ بار پنجاب آئے تھے تو انہوں نے منشیات سے پاک پنجاب کے لیے بی جے پی کی ریلی سے خطاب کیا تھا اور منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس وقت بھی ان پر الزامات لگائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’آج میں سوگوار خاندانوں کو تسلی دینے آیا ہوں۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود میرے خلاف نازیبا الفاظ کہے گئے اور میری توہین کی گئی۔ مجھے گالی دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر اس سے آپ کو اطمینان ملتا ہے تو ایسا کیجیے، لیکن کم از کم منشیات کے کاروبار اور چِٹّا کے خطرے کو تو ختم کیجیے۔‘‘

منشیات کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: شاہ

امت شاہ نے الزام لگایا کہ پنجاب میں منشیات کے کاروبار کی مخالفت کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس سے بھی 10 سے 12 کلوگرام ہیروئن برآمد ہونے کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آزادی اظہار کی بات کرنے والے لوگ پنجاب میں کسی شخص کو اس حد تک پریشان کرتے ہیں کہ گھر کے باہر سیاہ پرچم لگانے پر بھی اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑتا ہے۔ شاہ نے دعویٰ کیا کہ ایک باپ کو اس خوف سے خودکشی کرنی پڑتی ہے کہ کہیں اس کے بیٹے کے ساتھ کوئی اور برا واقعہ نہ ہو جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب میں حکومت چلا رہے عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کو اس صورت حال پر شرم آنی چاہیے۔

پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس قانون کے تحت پنجاب میں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟

امت شاہ نے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بنائے گئے پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس قانون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنا ہے اور اس کے تحت احتیاطی حراست کی گنجائش موجود ہے۔ شاہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں اس قانون کے تحت 929 معاملات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے سوال کیا کہ جب ریاست میں منشیات کا مسئلہ اتنا سنگین ہے تو وہاں اس قانون کے تحت کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے؟ شاہ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس قانون کے تحت ایک بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر پنجاب کے عوام کو جواب دے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read