مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو مدورائی، تمل ناڈو میں منعقدہ ایک بہت بڑی عوامی میٹنگ میں ریاست کی ڈی ایم کے حکومت اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے ڈی ایم کے پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 میں تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔
امت شاہ نے مدورائی میں بی جے پی کے ریاستی، ضلعی اور منڈل لیول کے بی جے پی عہدہ داران اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دہلی میں رہتا ہوں، لیکن میرے کان تمل ناڈو پر لگے ہوئے ہیں۔ اسٹالن صاحب کہتے ہیں کہ میں ڈی ایم کے کو نہیں ہرا سکتا۔ میں نہیں ہرا سکتا، لیکن تمل ناڈو کے لوگ ڈی ایم کے کو ضرور ہرا سکتے ہیں۔‘‘
4600 کروڑ روپے کے ریت کانکنی گھوٹالہ کا الزام
امت شاہ نے ڈی ایم کے حکومت پر 4600 کروڑ روپے کے غیر قانونی ریت کانکنی گھوٹالہ کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اس گھوٹالے نے غریبوں کو براہ راست متاثر کیا، جنھیں مہنگی ریت خریدنی پڑی تاکہ ڈی ایم کے منافع کما سکے۔ شاہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی 450 کروڑ روپے کی نیوٹریشن کٹس ایک پرائیویٹ کمپنی کو دے کر غریبوں کو کھانے سے محروم کر دیا گیا۔ انھوں نے تمل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن (TASMAC) گھوٹالے کا بھی ذکر کیا، جس میں ریاست کو مبینہ طور پر 39,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ شاہ نے کہا کہ اس رقم سے ریاست کے ہر اسکول میں دو اضافی کمرے بنائے جا سکتے تھے۔
ڈی ایم کے حکومت کے انتخابی وعدوں پر سوال
امت شاہ نے ڈی ایم کے حکومت پر انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انھوں نے کہا ’’میرے پاس ڈی ایم کے کی بدعنوانی کی ایک لمبی فہرست ہے، لیکن میں وقت ضائع نہیں کروں گا۔ اسٹالن حکومت نے اپنے 60 فیصد وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے اسٹالن کو چیلنج کیا کہ وہ عوام کو بتائیں کہ کتنے وعدے پورے ہوئے؟ شاہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی تمل ناڈو میں عوام کا اعتماد جیت کر 2026 میں اقتدار میں آئے گی۔
Addressing the state, district and mandal level office bearers of @BJP4TamilNadu in Madurai.
தமிழ்நாட்டின் மதுரையில் மாநில, மாவட்ட மற்றும் மண்டல அளவிலான நிர்வாகிகளிடம் உரையாற்றுகிறேன் https://t.co/Rih30PfcbJ
— Amit Shah (@AmitShah) June 8, 2025
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تمل ناڈو حکومت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات پر روک لگا دی تھی۔ تمل ناڈو حکومت نے اسے مرکزی ایجنسی کے حقوق کا غلط استعمال اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ شاہ نے اس معاملے پر بھی ڈی ایم کے کو گھیرا اور کہا کہ ان کی حکومت بدعنوانی کے معاملے میں احتساب سے نہیں بچ سکتی۔
تمل ناڈو میں بی جے پی کا بڑھتا ہوا اثر
امت شاہ نے اس دوران ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں اور ڈی ایم کے کی مبینہ بدعنوان حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کی اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے تمل ناڈو کی ترقی کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں، لیکن ڈی ایم کے حکومت نے ان اسکیموں کو نافذ کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے تمل ناڈو کے لوگوں سے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی۔ انھوں نے کہاکہ ’’بی جے پی تمل ناڈو کی ثقافت، زبان اور روایات کا احترام کرتے ہوئے ایک شفاف اور ترقی پر مبنی حکومت تشکیل دے گی۔‘‘ واضح رہے کہ امت شاہ کے اس دورے کو تمل ناڈو میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
