امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک ’’غیر معمولی شراکت دار‘‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے منگل کو ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے ایک سماعت کے دوران داعش-خراسان کے خلاف جنگ میں اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ اعلیٰ امریکی جنرل Kurilla کے یہ تبصرے جنوبی ایشیا کی سفارتکاری کے لیے ایک حساس وقت پر آئے ہیں، جب بھارت نے پہلگام میں اپریل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سرحد پار دہشت گردی میں پاکستان کے مبینہ کردار کو نمایاں کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ اگر ہمارا تعلق ہندوستان کے ساتھ ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلق نہیں رکھ سکتے: جنرل کوریلا
دریں اثناء پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کا آئندہ ماہ امریکہ کا دورہ کرنے کا بھی امکان ہے۔ جنرل کوریلا نے پاکستان کی عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف عاصم منیر کو خطے میں ISIS-K کی کارروائیوں میں خلل ڈالنے کی کوششوں کا سہرا دیا۔ کوریلا نے امریکی قانون سازوں کے سوالوں کے جواب میں کہا ’’اس لیے ہمیں پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔ میں نہیں مانتا کہ یہ ایک بائنری سوئچ ہے کہ اگر ہم انڈیا کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتے۔‘‘
ہندوستان نے ہمیشہ کی ہے ایسے تبصروں کی مذمت
جنرل کوریلا نے مزید کہا کہ ’’ہمیں تعلقات میں موجود خوبیوں کو دیکھنا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ نئی دہلی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے شکار (ہندوستان) اور مرتکب (پاکستان) کو ایک ہی پلڑے پر نہیں رکھا جا سکتا۔ ایسے میں جنرل کوریلا کا یہ بیان ان بین الاقوامی تبصروں کا واضح ردعمل ہے جو حالیہ فوجی کشیدگی کے تناظر میں ہندوستان اور پاکستان کو مساوی قرار دیتا ہے۔
نئی دہلی نے ایسے تبصروں پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کوریلا کے تبصروں پر ہندوستانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ جنرل کوریلا کی سربراہی والی امریکی سنٹرل کمانڈ ، جس کا صدر دفتر فلوریڈا میں ہے، پاکستان اور افغانستان سمیت مغربی، وسطی اور جنوبی ایشیا کے 21 ممالک میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


