Bharat Express DD Free Dish

Global Counter Terrorism

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کا خطرہ مسلسل اپنی شکل بدل رہا ہے، لیکن دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مخالفت کرنے کا بھارت کا عزم اٹل ہے۔ انہوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعظم  مودی نے 2014 میں 9/11 میموریل اینڈ میوزیم کے اپنے دورے کی کچھ جھلکیاں بھی شیئر کیں۔

نئی دہلی نے ایسے تبصروں پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کوریلا کے تبصروں پر ہندوستانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان نے یکم جنوری 2025 سے سلامتی کونسل میں دو سالہ غیر مستقل رکنیت حاصل کی ہے۔ اعلیٰ سفارت کار منیر اکرم کے مطابق، پاکستان عالمی چیلنجوں کے حل میں فعال کردار ادا کرے گا۔ 182 ووٹوں کے ساتھ منتخب ہونے والا یہ پاکستان کا آٹھواں دور ہے۔

شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کی قیادت میں ایک وفد نے متحدہ عرب امارات کے وزیر شیخ نہیان بن مبارک النہیان، دفاعی کمیٹی کے چیئرمین علی النعیمی اور دیگر سرکردہ لیڈروں سے ابوظہبی میں بات چیت کی۔

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام ممالک کے درمیان اتحاد ضروری ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان دہشت گردی کی لعنت کے خلاف اس لڑائی میں عالمی برادری کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے۔

ہندوستان اور نائیجیریا نے انسداد دہشت گردی کے تعاون کو بڑھانے کے لیے کلیدی شعبوں کی نشاندہی کی اور صلاحیت سازی اور بین الاقوامی کوششوں پر توجہ مرکوز کی۔ ریبادو نے مانیسر میں نیشنل سیکورٹی گارڈ کی سہولت کا بھی دورہ کیا، جس سے سیکورٹی میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا گیا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اس سال ہم اپنے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم نے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت اور پولینڈ کے تعلقات جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔

حال ہی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے دنیا حیران رہ گئی تھی اور کئی ممالک نے جلد از جلد جنگ بندی پر عمل درآمد پر اصرار کیا تھا۔

کناڈا کے ٹورنٹوشہرنے حال ہی میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں عالمی خطرے کے طورپردہشت گردی سے نمٹنے میں ہندوستان کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 ایس جے شنکر نے کہا کہ  ہمارا ماننا ہے کہ ایک حملہ بھی بہت زیادہ ہے اور ایک جان بھی بہت زیادہ ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے تک ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ چین، پاکستان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ چیلنج یہ ہے کہ ہم اس کونسل کے اندر اور باہر دوہرے معیارات سے کیسے نمٹتے ہیں