سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایودھیا رام مندر چندہ چوری معاملے پر بڑا بیان دیتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) اور حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ایس آئی ٹی کی تشکیل اور تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے ہی اکھلیش یادو مسلسل اس معاملے پر یوگی حکومت کو گھیر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ ثبوتوں کو جان بوجھ کر ختم کرنے اور چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت اور ایس آئی ٹی ملکر کہیں ثبوتوں کو ٹھکانے لگانے کی کوشش تو نہیں کر رہی ہے؟
اکھلیش یادو نے ایس آئی ٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں پورے معاملے کی جانچ رپورٹ ہی چوری نہ ہو جائے۔ سوشل میڈیا پر جاری چندہ چوری کی بحث کے درمیان انہوں نے کہا کہ جس انداز میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں رپورٹ بھی غائب نہ کر دی جائے۔انہوں نے مزید حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کہ بعد میں پھر کہا جائے گا کہ مزید 15 دن انتظار کر لیجیے۔ وقت اس لیے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ثبوتوں کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔اس معاملے پر اکھلیش یادو نے صرف ایس آئی ٹی کی جانچ پر سوالات ہی نہیں اٹھائے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ رام مندر چندہ معاملے میں بااثر اور بڑے لوگوں کے نام شامل ہیں، اسی وجہ سے حکومت اور انتظامیہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں کہا کہ: ’’کہیں ایسا نہ ہو کہ جانچ کے دوران خود تحقیقاتی رپورٹ ہی چوری ہو جائے۔‘‘
’’جانچ مکمل کرنے میں تاخیر جان بوجھ کر کی جا رہی ہے‘‘
اکھلیش یادو نے مزید الزام لگایا کہ جانچ مکمل کرنے میں تاخیر جان بوجھ کر کی جا رہی ہے اور بار بار وقت بڑھانے کا مقصد ثبوتوں کو ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعد میں یہ کہا جائے گا کہ مزید 15 دن انتظار کریں، جبکہ حقیقت میں ثبوتوں کو ٹھکانے لگانے کا کام جاری ہے۔اس سے قبل بھی اکھلیش یادو رام مندر چندہ معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں اور مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانچ مکمل ایمانداری سے کی جائے تو کئی اہم نام سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، وشو ہندو پریشد (VHP) کے لیڈر آلوک کمار نے اکھلیش یادو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس واقعی کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ انہیں ایس آئی ٹی کے حوالے کریں، ورنہ ان کے بیانات کو محض سیاسی بیان بازی سمجھا جائے گا۔
اکھلیش یادو مسلسل اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں بااثر شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، اسی وجہ سے حکومت اور انتظامیہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

