Urdu Conclave 2026

Big Scam

ایودھیا میں رام مندر کے چندے کی مبینہ چوری کا معاملہ مسلسل گرماتا جا رہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ اس کیس کے ملزمان کی وکالت یا ان کا مقدمہ لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری نے اپنی ہی وزارت سے اپنے کھیرے کے کھیت کے لیے تقریباً 99 لاکھ روپے کی سبسڈی لے لی، اس  معاملے نے راجستھان کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا اور حزبِ اختلاف لیڈر ٹیکارام جولی نے اسے مفادات کے ٹکراؤ اور کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ منوج جھا نے کہا کہ رام مندر کے چندے میں مبینہ چوری کا معاملہ اب صرف اپوزیشن کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پورے ملک کے بھکتوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری مذہبی عقیدت اور آستھا سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کے ٹول آپریشن معاہدے میں ایک بڑے مالیاتی گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں 333 کروڑ روپے کے معاہدے کو محض 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر تیار کیا گیا۔ محکمۂ اسٹامپ و رجسٹریشن کی جانچ میں 13.34 کروڑ روپے کی اسٹامپ ڈیوٹی چوری سامنے آئی ہے، جس کے بعد مقدمہ درج کر کے تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ موہن یادو سے متعلق زمین کے تنازعے پر کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اُجین میں واقع تقریباً 500 کروڑ روپے مالیت کی سرکاری زمین محض 1 روپے کے عوض وزیرِ اعلیٰ کے ثقافتی مشیر سے وابستہ ایک ٹرسٹ کو دے دی گئی۔

رام مندر چندہ گھوٹالے کی تحقیقات شروع ہوتے ہی اتر پردیش کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اکھلیش یادو نے جانچ ٹیم (SIT) پر ثبوت مٹانے اور ٹھکانے لگانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہے۔