Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav summoned by CBI: سی بی آئی کے نوٹس پر اکھلیش یادو کا بڑا فیصلہ

درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مجرمانہ سازش کے تحت سرکاری ملازمین نے ٹینڈر کے طریقے پر عمل کیے بغیر غیر قانونی طور پر نئی لیز اور تجدید لیز دیں۔ لوگوں کو غیر قانونی طور پر معمولی معدنیات کی کان کنی کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ معمولی معدنیات کی چوری اور رقم بٹورنے کی بھی اجازت دی گئی۔

پلوی پٹیل نے سی ایم یوگی کا کیوں ادا کیا شکریہ؟ اس سوال پر کیوں ہنس پڑے اکھلیش یادو؟

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو آج سی بی آئی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ مرکزی ایجنسی نے انہیں کان کنی گھوٹالہ معاملے میں طلب کیا تھا۔ سی بی آئی نے اکھلیش کو نوٹس بھیجا تھا کہ وہ بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ ایس پی صدر کو آج خود دہلی آکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا تھا، لیکن ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اکھلیش آج سی بی آئی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے 21 فروری کو سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت اکھلیش یادو کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اکھلیش کو 29 فروری کو دہلی میں سی بی آئی کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔

نوٹس میں کہا گیا کہ اکھلیش یادو کو جواب دینے کے لیے سی بی آئی کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔ اکھلیش کو جنوری 2019 میں درج سی بی آئی ایف آئی آر کے سلسلے میں طلب کیا گیا ہے، جو 2012-2016 کے درمیان ہمیر پور میں مبینہ غیر قانونی کان کنی سے متعلق ہے۔ جنوری 2019 میں، معدنیات کی غیر قانونی کان کنی کی اجازت دینے پر اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، مائننگ آفیسر اور دیگر سمیت متعدد سرکاری ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین نے ہمیر پور میں معدنیات کی غیر قانونی کان کنی کی اجازت دی۔

درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مجرمانہ سازش کے تحت سرکاری ملازمین نے ٹینڈر کے طریقے پر عمل کیے بغیر غیر قانونی طور پر نئی لیز اور تجدید لیز دیں۔ لوگوں کو غیر قانونی طور پر معمولی معدنیات کی کان کنی کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ معمولی معدنیات کی چوری اور رقم بٹورنے کی بھی اجازت دی گئی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read