نئی دہلی: فضائی آلودگی کو عام طور پر دل، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ ہوا انسانی دماغ اور یادداشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک فضائی آلودگی کے سامنے رہنے والے افراد کی یاد رکھنے، معلومات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اس کا اثر انسانی دماغ پر تقریباً دس سال اضافی عمر بڑھنے کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق امریکی اداروں یو سی ڈیوس ہیلتھ اور کیزر پرمانینٹے کے محققین نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ تحقیق کا مقصد باریک آلودہ ذرات، جنہیں فائن پارٹیکیولیٹ میٹر کہا جاتا ہے، کے طویل مدتی اثرات کا انسانی دماغی صحت پر جائزہ لینا تھا۔ محققین نے مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد کے اعداد و شمار اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کا تجزیہ کیا تاکہ فضائی آلودگی اور دماغی کارکردگی کے درمیان تعلق کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے بجلی گھروں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹروں اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی مسلسل فضائی معیار کو خراب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودہ ذرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ مطالعے کے دوران ان افراد کا جائزہ لیا گیا جو تقریباً بیس برس تک نسبتاً زیادہ آلودہ ماحول میں مقیم رہے تھے۔ محققین نے ان کی یادداشت، الفاظ کو یاد رکھنے، عمومی معلومات کو ذہن میں محفوظ رکھنے اور مختلف حقائق کو دہرانے کی صلاحیت کا امتحان لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ آلودگی والے علاقوں میں رہنے والے افراد کی کارکردگی صاف ستھرے ماحول میں رہنے والوں کے مقابلے میں مسلسل کم رہی۔
تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ اثر ’’سیمنٹک میموری‘‘ یا معنوی یادداشت پر دیکھا گیا۔ یہ انسانی دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے افراد الفاظ، ان کے معانی، مختلف تصورات اور عمومی معلومات کو یاد رکھتے اور روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی صلاحیت مؤثر گفتگو، زبان کو سمجھنے، نئی معلومات کے تجزیے اور روزمرہ کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق کی سینئر مصنفہ اور یو سی ڈیوس کے شعبۂ صحتِ عامہ کی پروفیسر کیتھرین کونلون نے کہا کہ سیمنٹک میموری انسانی ذہنی فعالیت کا بنیادی جزو ہے۔ اگر یہ متاثر ہو جائے تو فرد کی ابلاغی صلاحیت، معلومات کے استعمال اور روزمرہ امور انجام دینے کی استعداد بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ فضائی آلودگی اور صحت کے درمیان تعلق سے متعلق پہلے سے موجود سائنسی شواہد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ فضائی معیار کو بہتر بنانے اور نقصان دہ آلودگی کے طویل مدتی اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور ادراکی صحت کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
