Bharat Express DD Free Dish

Air Pollution Emergency

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے بجلی گھروں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹروں اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی مسلسل فضائی معیار کو خراب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودہ ذرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

فضائی آلودگی کی خراب صورتحال جمعہ سے ہی برقرار ہے۔ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں زہریلی دھند (اسموگ) کی دبیز تہہ چھائی رہی، جس سے حد نگاہ بری طرح متاثر ہوئی اور شہریوں کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔