Bharat Express DD Free Dish

India on WHO AQI Standards: گلوبل ایئر کوالٹی رینکنگ  پرڈبلیو ایچ اوصرف مشورہ دے سکتا ہے،راجیہ سبھا میں وزیر کا جواب: ہم بیرونی رپورٹس کی بنیاد پر پالیسی نہیں بناتے

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں نویں مقام پر ہے، لیکن ملک کی پالیسی سازی کسی بھی بیرونی رینکنگ پر منحصر نہیں ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس موسم کی شدت اور اس سے ہونے والے انسانی و مالی نقصان کی بنیاد پر ممالک کو رینک کرتا ہے۔

دہلی میں خطرناک فضائی آلودگی کے درمیان مرکز نے پارلیمنٹ میں واضح کیا ہے کہ دنیا میں کئی ادارے ایئر کوالٹی کی رینکنگ جاری کرتے ہیں، لیکن یہ کوئی سرکاری یا آفیشل رینکنگ نہیں ہوتی۔ حکومت کے مطابق WHO کی ایئر کوالٹی گائیڈلائنز محض مشورہ ہیں، کسی ملک پر انہیں نافذ کرنا لازم نہیں۔یہ بات وزیرمملکت برائے ماحولیات کیرتی وردھن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اپنی پالیشیز بنانے کے لیے کسی ’بیرونی رپورٹ‘ یا ’گلوبل انڈیکس‘ پر انحصار نہیں کرتا۔

’بھارت کے پاس خود کا نظام ہے‘ — وزیر

کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ WHO کی گائیڈلائنز کا مقصد صرف یہ ہے کہ ممالک جغرافیہ، ماحولیاتی کیفیت اور مقامی حالات کو دیکھتے ہوئے خود کے معیارات طے کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت پہلے ہی نیشنل ایمبینٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز (NAAQS) تشکیل دے چکا ہے، جو 12 پیرامیٹرز پر ملک میں آلودگی کی سطح کا جائزہ لیتا ہے۔مزید کہا گیا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ ممالک کو ’آفیشیل طور پر‘ رینک نہیں کرتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نیشنل کلین ایئر پروگرام (NCAP) کے تحت 130 شہروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے اور ہر سال 7 ستمبر کو نیشنل کلین ائیر ڈے ‘ پر بہتر کارکردگی دکھانے والے شہروں کو اعزاز دیتی ہے۔

کلائمٹ انڈیکس کی بنیاد پر بھارت کی پالیسی نہیں بنتی

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں نویں مقام پر ہے، لیکن ملک کی پالیسی سازی کسی بھی بیرونی رینکنگ پر منحصر نہیں ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس موسم کی شدت اور اس سے ہونے والے انسانی و مالی نقصان کی بنیاد پر ممالک کو رینک کرتا ہے۔کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ شدید موسم سے ہونے والے اقتصادی نقصان کا تخمینہ بہت مختلف ہوتا ہے، اس لیے بھارت اپنی پالیسی نیشنل پالیسی آن ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت بناتا ہے، جس میں تیاری، ردعمل، ریلیف، بحالی اور تعمیرنو کے اصول شامل ہیں۔

بھارت— تین دہائیوں میں شدید موسمی واقعات سے بھاری نقصان

برازیل کے بیلم میں جاری کلائمٹ رسک انڈیکس (CRI) 2026 کے مطابق، گزشتہ 30 برسوں میں شدید موسمی آفات سے بھارت دنیا کا نویں  نمبر پر ہے، سب سے زیادہ متاثر ملک رہا۔اس عرصے میں تقریباً 430 انتہائی موسمی واقعات میں 80 ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔ ماحولیات کی وزارت کا کہنا ہے کہ بھارت ان  واقعات کی بنیاد پر اپنی داخلی پالیسیوں کو وقتاً فوقتاً بہتر بناتا ہے، نہ کہ کسی عالمی رینکنگ پر۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read