دیوالی کے بعد سے دہلی–این سی آر میں مسلسل آلودگی سے سانسیں لینا مشکل ہو گیا ہے۔ دو دن کی معمولی راحت کے بعد فضا کا معیار ایک بار پھر تیزی سے بگڑ گیا ہے۔ جمعہ کی صبح دارالحکومت کا اوسط اے کیو آئی (AQI) ‘انتہائی خراب’ زمرے میں پہنچ گیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے اعداد و شمار کے مطابق، صبح سات بجے آنند وہار میں اے کیو آئی 329 ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں ہوا کی کیفیت تشویشناک بنی رہی، جس کے باعث لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔
ہوا کے معیار میں مسلسل گراوٹ
دہلی کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بوانا میں صبح کے وقت اے کیو آئی 366، جہانگیرپوری اور منڈکا میں 336، سونیا وہار میں 326 اور پنجابی باغ میں 344 ریکارڈ کیا گیا۔ وہیں آئی جی آئی ایئرپورٹ کا اے کیو آئی 266 رہا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، موسم میں ٹھہراؤ اور آلودگی کے ذرائع پر قابو نہ پانے کی وجہ سے فضا کی حالت مزید بگڑ رہی ہے۔
فضائی آلودگی سے فوری راحت کے آثار نہیں
دارالحکومت کے آس پاس کے شہروں کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔ گڑگاؤں کے سیکٹر 51 میں صبح سات بجے اے کیو آئی 290، غازی آباد کے اندراپورم میں 250 اور لونی میں 311 ریکارڈ کیا گیا۔ نوئیڈا کے سیکٹر 116 میں 266 اور سیکٹر 62 میں 275 اے کیو آئی پایا گیا، جو ’خراب‘ سے ’انتہائی خراب‘ کے درمیان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات بھی آلودگی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہیں، اور فی الحال کسی فوری بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے اہم نکات
دریں اثنا، وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سِرسا نے دہلی سیکریٹریٹ میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈی پی سی سی، ایم سی ڈی، ماحولیات محکمہ اور دیگر ایجنسیوں کے افسران نے شرکت کی۔ وزیر نے دہلی کے تمام 13 آلودگی والے ہاٹ اسپاٹس کی پیش رفت رپورٹ لی اور متعلقہ افسران کو زمینی سطح پر کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی، تاکہ آلودگی کی سنگین صورتِ حال پر جلد قابو پایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


