اسد الدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
جیسے جیسے بہار اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں، ریاستی سیاست میں مضبوط اتحاد بنانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اتوار کو اے این آئی کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے اس سلسلے میں بہار میں اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔بہار میں آئندہ چند ماہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ انتخابات میں اپوزیشن کے عظیم اتحاد میں آر جے ڈی، کانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں اور وکاسیل انسان پارٹی (وی آئی پی) شامل ہیں جبکہ حکمراں این ڈی اے میں جے ڈی یو، بی جے پی، ہندوستانی عوام مورچہ، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور راشٹریہ لوک مورچہ جیسی جماعتیں شامل ہیں۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا، ‘ہمارے ریاستی صدر اختر الایمان نے عظیم اتحاد کے کچھ رہنماؤں سے بات کی ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ بہار میں این ڈی اے دوبارہ اقتدار میں آئے۔ اب یہ ان سیاسی جماعتوں پر منحصر ہے جو بہار میں این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا چاہتی ہیں۔ پانچ سال پہلے میں نے ذاتی طور پر بھی کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اویسی نے کہاکہ ہم سیمانچل اور سیمانچل سے باہر بھی الیکشن لڑیں گے… اگر وہ اتحاد کے لیے تیار نہیں ہیں تو میں ہر جگہ سے الیکشن لڑنے کو تیار ہوں۔
#WATCH | Hyderabad | AIMIM chief Asaduddin Owaisi, says, “Our State President, Akhtarul Iman, has spoken to some leaders in the Mahagathbandhan and he has categorically stated that we do not want the BJP or NDA to come back in power in Bihar. Now it is up to these political… pic.twitter.com/08iNw1QZjI
— ANI (@ANI) June 29, 2025
آپ کو بتادیں کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی بہار کے سیمانچل میں اچھی موجودگی ہے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 5 سیٹیں جیتیں لیکن پارٹی کو اس وقت جھٹکا لگا جب اس کے پانچ میں سے چار ایم ایل اے آر جے ڈی میں چلے گئے۔ اویسی نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ کمیشن بہار میں این آر سی کو پچھلے دروازے سے لاگو کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





