نئی دہلی: امریکہ کی معروف کمپنی ہولٹیک انٹرنیشنل کے بانی اور سی ای او ڈاکٹر کرس سنگھ نے کہا ہے کہ اڈانی گروپ کا امریکہ میں جاری قانونی معاملہ حل ہونے سے بھارت کے نیوکلیئر انرجی پروگرام کو نئی رفتار مل سکتی ہے اور اڈانی گروپ اس شعبے میں زیادہ سرگرم کردار ادا کر سکے گا۔آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر کرس سنگھ نے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد اڈانی گروپ بھارت کے ابھرتے ہوئے نیوکلیئر توانائی پروگرام میں مؤثر طریقے سے حصہ لینے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے خوشی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو گیا، اب اڈانی گروپ اس نیوکلیئر پروگرام میں شامل ہو سکتا ہے جو تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔” ڈاکٹر کرس سنگھ نے اڈانی گروپ کو انفراسٹرکچر کے شعبے کا ایک بڑا اور تجربہ کار ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اس کے تجربے سے بھارت کے نیوکلیئر سیکٹر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر ترقی کے لیے ایسے مضبوط صنعتی گروپس کی ضرورت ہوگی۔
ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی سولر انرجی کے میدان میں پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شمسی اور ونڈ انرجی سسٹمز کو بیٹری لائف، توانائی ذخیرہ کرنے اور گرڈ کے استحکام جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، جب کہ نیوکلیئر انرجی مسلسل اور چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرتی ہے، جو صنعتی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ہولٹیک انٹرنیشنل کے سی ای او نے اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) کی بھی بھرپور حمایت کی۔ ان کے مطابق یہ جدید ری ایکٹرز بجلی کی پیداوار کو غیر مرکزی بنا سکتے ہیں اور مہنگے ٹرانسمیشن نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کرس سنگھ نے بتایا کہ ہولٹیک انٹرنیشنل مستقبل میں نیوکلیئر تعاون کے امکانات کے حوالے سے بھارتی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کے نیوکلیئر سیکٹر میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بہار سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کرس سنگھ نے 1986 میں ہولٹیک انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی تھی، جو آج دنیا کی نمایاں نیوکلیئر اور کلین انرجی کمپنیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

