Bharat Express DD Free Dish

Adani Clean Energy

طالب علم شیو منڈلک نے بھی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ RSI-India ملک بھر کے ہونہار ہائی اسکول طلبہ کو مکمل طور پر فنڈڈ اور عالمی معیار کی تحقیقی تربیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع کے لیے اڈانی گروپ اور CEE-USA کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام باصلاحیت طلبہ کے لیے معاشی رکاوٹوں کے بغیر اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دروازے کھولتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے تجارت، عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کینیا میں بھارتی نژاد برادری ایک صدی سے زائد عرصے سے تجارت، صنعت اور خدمات کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے،

اڈانی گروپ کی جانب سے بھی ریاست میں اپنی موجودگی بڑھانے کے اشارے ملے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ مغربی بنگال میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اڈانی پورٹس کے مکمل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اشوانی گپتا نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑے توانائی منصوبوں کی معاونت کی کمپنی کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اڈانی پورٹس اس وقت 12 ممالک میں میری ٹائم آپریشنز چلا رہی ہے اور اس کے پاس بندرگاہوں، ایل این جی ٹرمینلز، قومی آئل کمپنیوں، ریفائنریوں اور آف شور تنصیبات کے لیے وسیع تجربہ موجود ہے۔

شجرکاری پروگرام کے تحت کان کنی کے دوران کاٹے جانے والے ہر ایک درخت کے بدلے 40 نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں سال، مہوا، تیندو، املتاس اور سدھا جیسے مقامی انواع کے درختوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح تقریباً 88 فیصد رہی ہے،

پرگنانندا کی یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چھٹے راؤنڈ تک وہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلی پوزیشن پر موجود تھے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  اس کے بعد انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے مسلسل چار کلاسیکل مقابلے جیت لیے اور سب کو حیران کر دیا۔

اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔

س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے

معروف صنعت کار گوتم اڈانی نے بہار کی ترقی کے لیے تقریباً 50 سے 60 ہزار کروڑ روپے کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ ریاست میں سڑک، بجلی، تعلیم، صحت، ملٹی ماڈل لاجسٹک ہب، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔