سابق کانگریس لیڈر اور کالکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے ایک حالیہ ایکس پوسٹ میں کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی پر تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے بھارتی ثقافت کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی سے اپنے سیاسی کیریئر کے ابتدائی دنوں کے “محسنوں” کو عزت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ آچاریہ پرمود نے اپنی پوسٹ میں گھوڑے کے استعارے کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “گھوڑا لنگڑا ہو یا طاقتور، بوڑھا تو ہونا ہی پڑتا ہے،” جس سے ان کا اشارہ کانگریس پارٹی یا اس کے سینئر رہنماؤں کی طرف تھا، جنہوں نے راہل گاندھی کے سیاسی سفر کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ثقافت میں جس “گھوڑے” کی پیٹھ پر بچپن میں سواری کی ہو، اسے “باپ” کی طرح عزت دی جاتی ہے، یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ راہل گاندھی کو اپنی پارٹی کے بزرگ رہنماؤں کا احترام کرنا چاہیے۔
اچاریہ پرمود کرشنم نے اپنے پوسٹ میں کمل ناتھ اور جیتو پٹواری کو بھی ٹیگ کیا ہے۔ یعنی پورا معاملہ مدھیہ پردیش کے حوالے سے ہے،جہاں گزشتہ روز راہل گاندھی نے پارٹی کی اہم میٹنگ کی اور اس میں کئی بڑے فیصلے لئے گئے،شاید کمل ناتھ کو سائیڈ لائن کرنے کا انہیں اندیشہ ہے اور اچاریہ پرمود کرشنم کی کمل ناتھ سے اچھی دوستی ہے،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسا پوسٹ کیا ہو اور اس کو فی الحال اسی سیاق وسباق میں دیکھا جارہا ہے۔
घोड़ा “लंगड़ा” हो या “तगड़ा”
बूढ़ा तो होना ही पड़ता है @RahulGandhi जी,
लेकिन जिस “घोड़े”
की पीठ पर बैठ कर बचपन में सवारी खाई हो,
भारतीय संस्कृति में उसको “बाप” की तरह “इज़्ज़त”
दी जाती है. @OfficeOfKNath @digvijaya_28 @kharge @kcvenugopalmp @jitupatwari— Acharya Pramod (@AcharyaPramodk) June 3, 2025
آچاریہ پرمود کی اس پوسٹ پر کئی صارفین نے سخت ردعمل دیا، جن میں سے کچھ نے ان پر منافقت کا الزام لگایا، جبکہ دیگر نے ان کے استعاروں کا مذاق اڑایا۔ واضح رہے کہ آچاریہ پرمود کو 2024 میں کانگریس سے “غیر نظم و ضبط اور پارٹی مخالف سرگرمیوں” کے الزام میں نکال دیا گیا تھا، جب انہوں نے رام مندر کی تقریب میں کانگریس کی عدم شرکت کو “ہندو مخالف” قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ راہل گاندھی رام مندر کے فیصلے کو الٹنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جو ان کے اور راہل گاندھی کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ آچاریہ پرمود کی بات سے اتفاق کرتے ہیں، جبکہ دیگر انہیں پارٹی سے بغاوت کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

