مؤ صدر سیٹ سے ایم ایل اے عباس انصاری۔ (فائل فوٹو)
مختار انصاری کے بیٹے اور مئو صدر سیٹ سے رکن اسمبلی عباس انصاری کے خلاف 2022 کے انتخابات کے دوران دی گئی مبینہ نفرت انگیز تقریر کے کیس میں آج مئو کی ضلع و سیشن عدالت نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے 2 سال کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ عباس انصاری کی رکنیت خطرے میں آ سکتی ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، ایم پی- ایم ایل اے کورٹ ڈاکٹر کے پی سنگھ نے یہ فیصلہ سنایا۔
#UPDATE | Mau, Uttar Pradesh: MP/MLA Court sentenced Suheldev Bharatiya Samaj Party MLA Abbas Ansari to 2 years of imprisonment in connection with the hate speech case.
Abbas Ansari’s close aide, Mansoor Ansari, sentenced to 6 months of imprisonment https://t.co/szyOhwTBPV
— ANI (@ANI) May 31, 2025
کیس کی تفصیلات:
سال 2022 میں اسمبلی انتخابات کے دوران، مئو کے پہاڑپورا علاقے میں عباس انصاری نے ایک عوامی جلسے کے دوران مبینہ طور پر کہا تھا کہ “حکومت بننے کے بعد افسروں سے حساب لیا جائے گا”۔ اس بیان کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے مئو کوتوالی میں سب انسپکٹر گنگا رام بند نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ عباس اور ان کے چچا منصور انصاری کے خلاف سازش کرنے، افسران کو دھمکانے، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کے دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تقریباً 3 سال بعد آج اس معاملے میں عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔
منصور انصاری کو بھی سزا:
عدالت نے عباس انصاری کے ساتھ ان کے چچا منصور انصاری کو سازش میں شریک ہونے کا مجرم قرار دیا ہے۔ منصور کو 6 ماہ قید اور دونوں پر 2000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ میں اپیل:
اس کیس میں عباس انصاری اور ان کے بھائی عمر انصاری اور منصور انصاری کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکی)، 171F (انتخابی حق کے غلط استعمال)، 186 (سرکاری کام میں مداخلت)، 189 (سرکاری ملازم کو دھمکانا)، 153A (مذہب یا ذات کی بنیاد پر نفرت پھیلانا) اور 120B (مجرمانہ سازش) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے شواہد اور دلائل کی روشنی میں عباس اور منصور کو مجرم قرار دیا جبکہ عمر انصاری کو بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایک عوامی نمائندے کی حیثیت سے اس طرح کا اشتعال انگیز بیان جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد رکن اسمبلی کی حیثیت سے عباس انصاری کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی اسمبلی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے۔ ممکنہ طور پر وہ ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
فیصلے کے بعد مؤ کی عدالت کے باہر ایس بی ایس پی کے کارکنان نے احتجاج کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حالات پر قابو پایا۔
دو ماہ پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوئے تھے:
عباس انصاری کو دو ماہ پہلے ہی سپریم کورٹ سے گینگسٹر ایکٹ کے تحت عبوری ضمانت ملنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ان پر مجرمانہ سرگرمیوں اور غیر قانونی مالی لین دین میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ان کے خلاف ای ڈی نے منی لانڈرنگ اور گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس کے تحت وہ نومبر 2022 سے جیل میں تھے۔ اب اس تازہ فیصلے کے بعد انہیں دوبارہ جیل جانا پڑے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

