Bharat Express DD Free Dish

Harbhajan Singh on Bulldozer Action in Punjab: ہربھجن سنگھ نے پارٹی کو مشکل میں ڈالا، پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی بلڈوزر کارروائی کو بتایا غلط

پنجاب حکومت کی مہم کے تحت مبینہ نشہ اسمگلروں کے گھروں کوگرانے کے فیصلے پرعام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن ہربھجن سنگھ نے اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کومنہدم کرنا مناسب حل نہیں ہے اوراس سے قانونی عمل کودرکنار کیا جا رہا ہے۔

ہربھجن سنگھ نے پنجاب حکومت کی بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھایا ہے۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن ہربھجن سنگھ نے پنجاب حکومت کی ’منشیات کے خلاف جنگ‘ مہم سے متعلق پارٹی لائن سے الگ بیان دیا ہے۔ ان کے بیان سے پارٹی کے لئے مشکل کھڑی ہوگئی ہے اورپنجاب کی بھگونت مان حکومت کے لئے جواب دینا مشکل ہوگا۔ ہندوستانی ٹیم کے سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے کہا کہ کوئی نشہ بیچتا ہے تو اس کا گھر گرا دیا، میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں۔

ہربھجن سنگھ نے کیا کہا؟

جالندھرکے رہنے والے سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ گھرمنہدم کردینا کوئی اچھا متبادل نہیں ہے۔ اس پر دیگرکسی چیز پرکام کیا جاسکتا ہے۔ اگرکوئی سرکاری زمین پر بیٹھا تو ایسی کارروائی منظورہوتی ہے۔ ہربھجن سنگھ نے مزید کہا کہ کوشش یہ ہونی چاہئے، اگرکسی نے گھربنوا ہی لیا ہے توانہیں مذکورہ گھرمیں رہنے دینا چاہئے۔ گھرتوڑ دینا اچھا متبادل نہیں ہے۔ کسی شخص نے پتہ نہیں کیسے گھربنایا ہوگا۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان نے پولیس کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اورسینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) کو ریاست سے ڈرگس کو ختم کرنے کے لئے تین ماہ کی ڈیڈلائن دی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے قصوروار ڈرگس اسمگلروں اوران کی فیملی کو مفت بجلی اور پانی سمیت سرکاری سبسڈی سے محروم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے جاری کیا تھا نوٹس

پنجاب اورہریانہ ہائی کورٹ نے اس ماہ کی شروعات میں مبینہ ڈرگس اسمگلروں کی جائیدادوں کو منہدم کرنے کے معاملے میں پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ نوٹس چیف جسٹس شیل ناگو اور جسٹس سمت گویل کی بینچ نے پیپل ویلفیئرسوسائٹی پنجاب کے ذریعہ داخل مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کے جواب میں جاری کیا، جس میں پولیس کی بلڈوزر کارروائی کو چیلنج دیا گیا ہے۔ وکیل کنور پال سنگھ کے ذریعہ داخل عرضی میں ترک دیا گیا ہے کہ اس طرح کی توڑ پھوڑکے قانونی عمل کو درکنارکرکے آئینی حقوق اورقانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

قابل ذکرہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ فوجداری مقدمات میں الزام یا سزا کی بنیاد پرجائیدادوں کو منہدم نہیں کیا جاسکتا۔ غلطی کا تعین کرنا ایک عدالتی کام ہے اورکوئی بھی عمل جومناسب عمل کو نظرانداز کرتا ہے وہ بنیادی قانونی اصولوں کو مجروح کرتا ہے۔ درخواست گزارنے کہا کہ حکومت جائیداد کو منہدم کرکے اورلوگوں کو منصفانہ ٹرائل کے بغیرسزا دے کرجج اورجلاد دونوں کا کردارنہیں نبھاسکتی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read