(تصویر: اے این آئی)
23 سینئر نکسل کیڈرز نے، جن میں نو خواتین بھی شامل ہیں، جن پر کل 1.18 کروڑ روپے کا انعام تھا، چھتیس گڑھ کے جنوبی بستر کے سُکما میں ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والوں میں گیارہ سخت گیر نکسل بھی شامل ہیں، جو کہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کے فوجی ونگ پیپلز لبریشن گوریلا آرمی بٹالین نمبر 1 میں سرگرم تھے۔
نکسل ازم کو چھوڑنے والے کیڈرز نے بتایا کہ وہ نکسلی تنظیم کے ’’کھوکھلے اور ترقی مخالف نظریے‘‘ کو سمجھ چکے ہیں اور تنظیم کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات سے پریشان تھے۔ سکما ضلع پولیس نے خودسپردگی کرنے والے کیڈروں کی فہرست جاری کی ہے۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ رمیش عرف کلمو کیسہ، لوکیش عرف پوڈیم بھیما، مڈکم ہنگا، کاواسی ماسا، پونم ڈیوے، نوپو گنگی، پارسکی پانڈے، مادوی جوگا، نوپو لچھو، ددھی بھیما اور پوڈیم سکھرام پر 8-8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔
انھوں نے کہا کہ چار دیگر کیڈرز پر 5-5 لاکھ روپے، ایک کیڈر پر 3 لاکھ روپے اور سات کیڈروں پر 1-1 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ اس سے قبل جمعہ کے روز سکما کے ملحقہ ضلع نارائن پور کے ابوجماد علاقے میں بھی ایسے 22 نکسلیوں نے ہتھیار ڈالے تھے، جن پر مجموعی طور پر 37.5 لاکھ روپے کا انعام تھا۔
نکسلی اب بندوق کے بجائے ترقی کی راہ اختیار کر رہے ہیں: وزیر اعلیٰ ویشو دیو سائی
چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی ویشو دیو سائی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نکسلی باغی اب بندوق کے بجائے ترقی کا راستہ چن رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے تحت اب تک کل 1,499 نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ واضح رہے کہ ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں میں سے ہر ایک کو 50,000 روپے کی ابتدائی مالی مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ اگر ہتھیار ڈالنے والے نکسی کسی ہنر کی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کوئی چھوٹا کاروبار کرنا چاہتے ہیں، تو انھیں مزید مالی مدد ملے گی۔ وہیں ہتھیار ڈالنے والوں کی بحالی کے لیے نئی پالیسی کے تحت انھیں مفت رہائش اور صحت کی دیکھ بھال، کھیت کی زمین اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
