Bharat Express DD Free Dish

Naxal’s Surrender

چھتیس گڑھ کے سُکما میں نکسلی تشدد کے درمیان امن کی کوشش دیکھنے کو ملی ہے۔ ایک ساتھ 26 ہارڈکور نکسلیوں نے ہتھیار ڈال کر مرکزی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت میں ماؤ نواز یا نکسلی تحریک، جو کبھی ”جنگ آزادی“ اور ”انقلاب“ کے نظریے پر مبنی تھی، آج اندرونی بحران، نظریاتی انتشار اور قیادت کے فقدان کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔بھوپتی اور ستیش، دونوں تنظیم کے تجربہ کار حکمت عملی اور فیلڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے کیڈر تھے۔ ان کی خودسپردگی نے تنظیم کے نچلے سطح کےکیڈروں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے نکسل فری انڈیا مشن کو بڑی کامیابی ملی ہے۔مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں ماؤ نواز رہنما ملوجلا وینوگوپال راؤ نے اپنے 60 ساتھیوں کے ساتھ سرنڈر کر دیا ہے۔

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی ویشو دیو سائی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نکسلی باغی اب بندوق کے بجائے ترقی کا راستہ چن رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے تحت اب تک کل 1,499 نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ دیہاتی نکسلی خاص طور پر چھتیس گڑھ حکومت کے اس تازہ اقدام سے متاثر ہوئے جو نکسلیوں سے پاک پنچایتوں کی ترغیب دیتا ہے۔