نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 کی مردم شماری ذات (کاسٹ) کی بنیاد پر بھی کرائی جائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد کافی عرصے سے جاری خدشات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور حدبندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق خدشات پر بھی وضاحت پیش کی گئی۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ کئی اراکین نے سوال اٹھایا ہے کہ حدبندی کا عمل اس وقت کیوں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ناری شکتی وندن ایکٹ“ میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کے بعد جو نئی حدبندی ہوگی، اس میں خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس میں کوئی نئی شرط حکومت نے شامل نہیں کی بلکہ یہ ماضی کے فیصلوں کا تسلسل ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ 1971 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی حکومت نے حدبندی کو منجمد (فریز) کر دیا تھا، جس کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی فریز کیے گئے ڈھانچے کو بنیاد بنا کر آج بھی نمائندگی کا نظام چل رہا ہے، جسے اب بدلنے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1972 میں اندرا گاندھی حکومت نے حدبندی کے ذریعے لوک سبھا نشستوں کی تعداد 525 سے بڑھا کر 545 کی تھی۔ تاہم بعد میں 1976 میں ایمرجنسی کے دوران آئین کی 42ویں ترمیم کے ذریعے حدبندی کے عمل پر پابندی لگا دی گئی، جس کے باعث طویل عرصے تک حلقوں کی ازسرنو تقسیم نہیں ہو سکی۔
انہوں نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس کانگریس نے ماضی میں حدبندی کو روکا تھا، آج بھی وہی جماعت اس عمل کی مخالفت کر رہی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ آج اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی وہ حدبندی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ملک کے عوام کو صحیح نمائندگی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ امت شاہ نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1976 میں ملک کی آبادی تقریباً 56.79 کروڑ تھی، جبکہ آج یہ بڑھ کر 140 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد وہی برقرار رکھنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے نمائندگی میں اضافہ کیوں نہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پیش کردہ تینوں بلوں کا مقصد واضح ہے۔ پہلا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ 2029 کے عام انتخابات خواتین ریزرویشن کے ساتھ کرائے جا سکیں۔ دوسرا مقصد آئین کے بنیادی اصول ”ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر“ کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہے تاکہ ہر شہری کو برابر نمائندگی مل سکے۔ امت شاہ کے اس بیان کے بعد ایوان میں بحث کا رخ بدل گیا اور حدبندی و مردم شماری کے مسائل پر نئی سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جانے لگا۔ اپوزیشن نے اگرچہ کچھ تحفظات کا اظہار کیا، تاہم حکومت نے واضح کیا کہ یہ اقدامات جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی نمائندگی کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
