Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping said – the world should choose peace or war: تیان من اسکوائر پر طاقت کا عظیم مظاہرہ،صدر شی جن پنگ کا پیغام –دنیا امن چنےیا جنگ

یہ تقریب صرف چین کی فوجی طاقت کی نمائش نہ تھی بلکہ اس کا اصل پیغام بین الاقوامی سیاست میں چین، روس اور شمالی کوریا کے گہرے تعلقات اور مغرب کو ایک واضح اشارہ تھا۔ تینوں رہنماؤں کی مشترکہ موجودگی

چین کے دارالحکومت بیجنگ کا تاریخی تیان من اسکوائر آج ایک بار پھر تاریخ کا گواہ بن گیا، جب چین نے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے 80 سال مکمل ہونے پر ایک شاندار اور غیرمعمولی فوجی پریڈ کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔ یہ تقریب نہ صرف چین کی عسکری طاقت کا اظہار تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا بین الاقوامی پیغام بھی پوشیدہ تھا۔

سخت سیکورٹی، عوام کی محدود رسائی

بیجنگ میں صبح سے ہی سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کی مرکزی سڑکوں پر عوامی آمدورفت تقریباً بند رہی، جبکہ لاکھوں افراد نے اس ایونٹ کو براہِ راست ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھا۔ تقریب میں تقریباً 50 ہزار افراد نے اسکوائر پر براہِ راست شرکت کی، جب کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے یہ منظر دنیا بھر میں دیکھا۔

صدر شی جن پنگ کا تاریخی خطاب

صدر شی جن پنگ، روایتی ماؤ سوٹ میں ملبوس اور اپنی اہلیہ پینگ لی یوآن کے ہمراہ اسٹیج پر پہنچے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا:”آج انسانیت ایک نئے چوراہے پر کھڑا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا راستہ امن کا ہوگا یا جنگ کا۔”

انہوں نے چینی عوام کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں چین نے بھاری جانی و مالی قیمت چکائی، لیکن انسانی تہذیب کو بچانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

فوجی پریڈ اور “ریڈ فلیگ” کار کا مظاہرہ

صدر شی جن پنگ نے چین کی علامتی اور تاریخی گاڑی “ریڈ فلیگ لیموزین” میں سوار ہو کر فوجی دستوں کا معائنہ کیا۔ یہ وہی گاڑی ہے جو ماؤ زے تنگ سے لے کر آج تک چین کی سیاسی طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے فوجیوں سے مخاطب ہو کر کہا:”کامریڈز، آپ نے سخت محنت کی ہے۔”

اس کے جواب میں سپاہیوں نے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے جواب دیا،عوام کی خدمت کریں۔

عالمی رہنماؤں کی موجودگی اور نئی صف بندی

اس تقریب کا سب سے نمایاں لمحہ وہ تھا جب شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن ایک ساتھ چلتے ہوئے نظر آئے۔ تینوں رہنماؤں نے چینی جنگی ویٹرنز سے ملاقات کی اور بعد ازاں اسٹیج پر ساتھ بیٹھے۔ اس منظر کو دنیا بھر میں خصوصی توجہ دی گئی، اور ماہرین نے اسے مغربی اتحاد کے مقابل ایک نئے اتحاد کی علامت قرار دیا۔

چین اور شمالی کوریا: رشتوں میں نئی گرمجوشی

ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ چین اور شمالی کوریا کے تعلقات گزشتہ برسوں میں سرد مہری کا شکار رہے تھے، لیکن کم جونگ اُن کی اس پریڈ میں شرکت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بیجنگ اب پیونگ یانگ کو اپنے قریب لانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں کم اور پوتن کی قربت بھی خبروں میں رہی ہے، اور اب شی جن پنگ کی موجودگی نے اس رشتے کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

عوامی زندگی پر اثرات

اس عظیم الشان تقریب کے باعث بیجنگ کے عام شہریوں کو بھی بڑی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کئی سیاحتی مقامات بند کر دیے گئے، سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم نافذ کیا گیا اور اسکولوں میں چھٹیاں بڑھا دی گئیں۔

طاقت کا مظاہرہ یا سیاسی پیغام؟

یہ تقریب صرف چین کی فوجی طاقت کی نمائش نہ تھی بلکہ اس کا اصل پیغام بین الاقوامی سیاست میں چین، روس اور شمالی کوریا کے گہرے تعلقات اور مغرب کو ایک واضح اشارہ تھا۔ تینوں رہنماؤں کی مشترکہ موجودگی اس امر کا اعلان تھی کہ مشرقی ایشیا میں نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں اور عالمی توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read