ہندوستان پاکستان کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں ،البتہ اسی بیچ ایک اہم پیش رفت میں، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیضان اور وزیر دفاع یاشار گلر بدھ کو پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب نئی دہلی اور اسلام آباد کے حالیہ تنازعے میں ترکیہ نے پاکستان کی کھلی حمایت کی تھی۔حالانکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما باہمی دلچسپی کے تمام اہم مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے، جبکہ ترک میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بات چیت معیشت، تجارت، اور خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی تعلقات پر بھی مرکوز ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اہم موضوع بھارت بھی ہوگا۔ ترک میڈیا ’حریت‘ کے مطابق فیضان کے ایجنڈے میں “پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی” اور خطے میں امن کے لیے ترکیہ کی شراکت کی تیاری شامل ہے۔ اس کے بعد یہ کہا گیا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، جس کا مطلب ہے پاکستان کو مزید ترک ہتھیاروں سے لیس کرنا۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان کو چین اور ترکیہ سے اہم فوجی حمایت حاصل ہوئی، یہاں تک کہ بھارت کو تین ممالک سے لڑنا پڑا۔ٹریڈنگ ایکنومکس کے اعداد و شمار کے مطابق، ترکیہ نے 2023 میں پاکستان کو تقریباً 20.95 ملین ڈالر کے ہتھیار اور گولہ بارود فروخت کیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی فوج کو جدید بنانے کے لیے، خاص طور پر بحری اور ایرو اسپیس شعبوں میں، مشترکہ فوجی پیداوار میں بھی شراکت کی ہے۔

ترکیہ کے لیے، پاکستان کے ساتھ تعلقات اسلام آباد کے خلیجی ممالک، چین، مغرب، اور حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان بھی ترکیہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ سہ فریقی تعلقات کے فوائد حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ امید کرتا ہے کہ ترکیہ کی ایشیا اور یورپ کے درمیان پل کے طور پر اسٹریٹجک پوزیشن اور اس کی نیٹو رکنیت پاکستان کو مغربی ممالک کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے مشغول کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی نظر پاکستان کی تین قومی تیل کمپنیوں پر بھی ہے۔ وہ توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ اپریل میں ترکش پیٹرولیم کارپوریشن اور پاکستانی فرموں کے درمیان ’مشترکہ بولی معاہدہ‘ اس سمت میں ایک قدم تھا۔اب اس میٹنگ کےبعد اس سمت میں مزید پیش رفت کی امید کی جارہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




