Urdu Conclave 2026

Trump Sets Deadline for Iran: ’’کل تک فیصلہ کرو…نہیں مانے تو ہوگا حملہ…‘‘، ٹرمپ نے ڈیڈ لائن کی مقرر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ فوجی آپشن اب بھی کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو بری طرح ہلا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان سے ممکنہ امریکی کارروائی کے بڑے پیمانے کا اشارہ ملتا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے آخری مہلت دے دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وسیع فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اس اقدام کے عالمی توانائی اور سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈیڈ لائن اور سفارتی کوششیں
انہوں نے کہا، ’’ان کے پاس کل تک کا وقت ہے اور یہ بھی کہا کہ سفارت کاری کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، بات چیت جاری ہے لیکن صورتحال غیر یقینی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہمیں لگتا ہے کہ وہ سنجیدگی سے بات کر رہے ہیں… ہمیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔‘‘

فوجی کارروائی کا اشارہ
ٹرمپ نے واضح کیا کہ فوجی آپشن اب بھی کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انہیں بری طرح ہلا سکتے ہیں۔‘‘ امریکی صدر کے اس بیان سے ممکنہ امریکی کارروائی کے بڑے پیمانے کا اشارہ ملتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ اہداف کے معاملے میں ’’بہت کم چیزیں حد سے باہر ہیں‘‘، جس کا مطلب ہے کہ اگر ایران نے بات نہ مانی تو اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

توانائی اور تیل کی فراہمی کا معاملہ
صدر نے اشارہ دیا کہ تیل کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا امریکہ کے مطالبات کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہم تیل اور دیگر چیزوں کی آزادانہ نقل و حرکت چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس ضمن میں آبنائے ہرمز جیسے اہم توانائی راستوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ایران کی فوجی صلاحیت پر تبصرہ
ٹرمپ نے حالیہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ان کے پاس بحریہ نہیں ہے… ان کے پاس فضائیہ نہیں ہے… ان کے پاس فضائی دفاعی نظام نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ، انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ غیر روایتی خطرات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تنازع کے اگلے مرحلے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں آپ کو نہیں بتا سکتا… یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔‘‘

یہ بیانات دباؤ اور سفارت کاری کے امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں امریکہ ایک طرف رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف حملوں کا آپشن بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک اس بحران کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور اس جنگ سے بہت سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
یہ صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر اگر کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز متاثر ہوتے ہیں، جو تیل کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ محدود اقدامات، جیسے سمندری بارودی سرنگیں بچھانا، بھی آمد و رفت کو روک سکتے ہیں اور وسیع اقتصادی اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔