امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے انتخابی نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری کر لی ہے۔ انہوں نے کئی اہم ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرکے مزید کارروائی کی راہ ہموار کی ہے۔ اب وفاقی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے رجسٹریشن شہریت کے دستاویزی ثبوت کے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قوانین میں بھی ترمیم کی جائے گی۔ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق صرف انتخابات کے دن تک موصول ہونے والے بیلٹس کو ہی گنتی میں شامل کیا جائے گا۔ اپنے تازہ حکم نامے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اب تک بنیادی اور ضروری انتخابی سکیورٹی کو نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے۔
وفاقی امداد روکنے کا خطرہ
نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ریاستوں سے ووٹروں کی فہرستیں شیئر کرنے اور انتخابی جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدم تعاون کی صورت میں وفاقی مالی امداد واپس لینے کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ اگر ریاستوں کے انتخابی اہلکار وفاق کے احکامات پر عمل نہیں کرتے ہیں تو ان کے لیے وفاقی فنڈنگ روکی جا سکتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے حالیہ فیصلوں کی وجہ سے ووٹنگ کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت مخالفت اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ ایک عرصے سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔
سال 2020کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے سے قبل ہی انہوں نے ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن پر کئی سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انتخابات میں اپنی شکست کے بعد سے ٹرمپ ووٹنگ سے متعلق بہت سے قوانین کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور بار بار دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ خاص طور پر میل ووٹنگ کے بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسے غیر محفوظ قرار دیا اور کہا کہ اس سے دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے۔ تاہم، اس سال الیکشن جیتنے کے بعد، انھوں نے اس معاملے پر اپنا موقف بدل لیا، کیونکہ یہ طریقہ ریپبلکن رہنماؤں اور ان کے حامیوں میں کافی مقبول ہو چکا ہے۔ امریکی انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے کیسز بہت کم ہوتے ہیں، ان کا دائرہ کار محدود ہے اور ایسے کیسز پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنے کے بعد، ٹرمپ نے کہا کہ “انتخابی اصلاحات سے متعلق بہت سے بڑے فیصلے آنے والے ہفتوں میں کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



