امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کی سمت ایک اہم اعلان کرتے ہوئے امن کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا۔ اس منصوبے میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے مکمل غیر مسلح ہونے، نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کو اقتدار منتقل کرنے اور بین الاقوامی نگرانی میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجویز شامل ہے۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کا تاریخی معاہدہ
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروپوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔‘‘
مرحلہ وار نفاذ اور اسرائیلی فوج کا انخلا
ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی منصوبے کے نفاذ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جیسے ہی مسلح گروپ ہتھیار ڈال دیں گے، اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے واپس چلی جائے گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
14 دن کے اندر عمل درآمد شروع کرنے کی تجویز
جاری کردہ مسودۂ روڈ میپ کے مطابق تمام فریقوں کی منظوری کے 14 دن کے اندر منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر نئے مرحلے کے آغاز سے قبل فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کرنا اور جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق تمام ذمہ داریاں پوری کرنا لازمی ہوگا۔
آٹھ ماہ کی بات چیت کے بعد تیار ہوا منصوبہ
امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس روڈ میپ پر گزشتہ آٹھ ماہ سے مذاکرات چل رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل عرصے سے قائم بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد سیاسی اعتماد کے بجائے آزادانہ تصدیق اور مرحلہ وار نگرانی پر رکھی گئی ہے۔
عبوری فلسطینی انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی
حکام نے بتایا کہ عبوری دور میں غزہ کے تمام سول اور سکیورٹی امور غزہ انتظامی قومی کمیٹی کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ یہ کمیٹی غزہ کے مالیاتی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ کرے گی، سرکاری اداروں کو فعال رکھے گی اور عوامی خدمات کی فراہمی جاری رکھے گی۔ روڈ میپ میں ’ایک حکومت، ایک قانون، ایک ہتھیار‘ کے اصول کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت اس قومی کمیٹی کو ہتھیاروں کے ضابطے، لائسنس جاری کرنے اور پورے علاقے میں قانون نافذ کرنے کا واحد اختیار حاصل ہوگا۔
غزہ میں ختم کیے جائیں گے عسکری ڈھانچے
دستاویز کے مطابق قومی کمیٹی اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کی زیر نگرانی بھاری ہتھیار، زیر زمین سرنگیں اور عسکری سازوسامان تیار کرنے والے مراکز ختم یا محفوظ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ غزہ میں سرگرم تمام مسلح ملیشیاؤں کو بھی ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق تحلیل کر دیا جائے گا۔
اسرائیل کے حوالے نہیں ہوگا جمع شدہ ہتھیار
حکام نے واضح کیا کہ غیر مسلح کرنے کے عمل کے دوران جمع کرائے گئے ہتھیار نہ تو اسرائیل اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے، بلکہ یہ تمام ہتھیار عبوری فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رہیں گے۔
غزہ میں آزاد نگران کمیٹی کرے گی نگرانی
سینئر حکام کے مطابق ایک آزاد عمل درآمد اور تصدیقی کمیٹی پورے منصوبے کے ہر مرحلے کی نگرانی کرے گی۔ اگلے مرحلے میں پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب کمیٹی اس بات کی تصدیق کرے گی کہ سابقہ مرحلے کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں۔ حکام نے اس نظام کو ’صفر اعتماد‘ کے اصول پر مبنی قرار دیا، جہاں ہر دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوگی۔ تجویز میں غزہ کے اندرونی امن کے لیے ایک شہری امن معاہدہ بھی شامل ہے، جس کے تحت انتقامی کارروائیوں، مسلح مظاہروں اور فوجی پریڈ پر پابندی ہوگی، جبکہ داخلی سلامتی کی ذمہ داری قومی کمیٹی اور اس کی پولیس فورس سنبھالے گی۔
بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور تعمیر نو
روڈ میپ کے مطابق جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی ترسیل، پولیس کی تربیت اور غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کی جائے گی۔ اسرائیلی فوج طے شدہ سکیورٹی شرائط پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد مرحلہ وار غزہ سے واپس جائے گی۔ غزہ کی تعمیر نو بھی بین الاقوامی نگرانی میں ہوگی، جس کے لیے بورڈ آف پیس اور غزہ انتظامی قومی کمیٹی نے مشترکہ طور پر مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا ہے۔
ٹرمپ نے مصر، قطر اور ترکیہ کو کہا شکریہ
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی مذاکراتی ٹیم کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ’’سات اکتوبر کو غزہ سے پیدا ہونے والا خطرہ دوبارہ جنم نہیں لے گا۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’اس معاہدے کے تحت غزہ بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے سپرد ہوگا، جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
