Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War: ایران کے میزائل حملوں سے اسرائیل میں خوف و ہراس، ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ٹرمپ کے جنگی بجٹ کی مخالفت کی

سینیٹر وین ہولن کا کہنا تھا، “یہ ایک غیر ضروری جنگ ہے جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ اس سے ہماری سلامتی میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہو رہی ہے، اس لیے اس پر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں ہونا چاہیے

نئی دہلی :ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ اس صورتحال پر امریکی صدر  نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس  فلیڈ پر مزید حملہ نہیں کرے گا۔ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ غصے میں کیا گیا، جس میں گیس فیلڈ کے صرف ایک چھوٹے حصے کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو اس حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی قطر کا اس میں کوئی کردار تھا۔

امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں اس درجے کی تباہی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر سنگین اثرات ہوں گے، لیکن اگر قطر کے ایل این جی مراکز کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو میں ہچکچاہٹ نہیں کروں گا۔”دوسری جانب امریکہ میں اس جنگ کو لے کر سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ڈیموکریٹک سینیٹر وان ہولن نے ایران کے خلاف جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کے بجٹ کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس تجویز کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ سینیٹر وین ہولن کا کہنا تھا، “یہ ایک غیر ضروری جنگ ہے جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ اس سے ہماری سلامتی میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہو رہی ہے، اس لیے اس پر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں ہونا چاہیے۔”

ادھر Pentagon نے وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد کے اضافی بجٹ کی منظوری طلب کی ہے۔ یہ رقم ایران کے ساتھ جاری جنگی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور ہتھیاروں کی تیز رفتار پیداوار بڑھانے کے لیے درکار ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ تجویز جلد امریکی کانگریس کے سامنے پیش کی جائے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں ہونے والے حملوں کے بعد یہ سب سے بڑی مالیاتی درخواست ہے، جس کا بڑا حصہ ان مہنگے ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری پر خرچ ہوگا، جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ہزاروں اہداف کو نشانہ بنانے میں استعمال کیے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک امریکہ کو 11 ارب ڈالر سے زائد کا خرچ برداشت کرنا پڑا ہے، جبکہ صرف پہلے ہفتے میں یہ لاگت 11.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ ابتدائی دو دنوں میں ہی ہتھیاروں پر تقریباً 5.6 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے، جو اس تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read