تل ابیب:غزہ امن منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا، اس پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ گزشتہ تین چار دنوں میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن سے لگ رہا ہے کہ دنیا دو دھڑوں میں بٹتی جا رہی ہے۔ یو این ایس سی میں امریکہ اور روس اپنے اپنے مسودوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون سار نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ ان کا ملک کسی فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی نہیں ہوگا۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیر کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جامع غزہ جنگ بندی منصوبے پر ووٹنگ ہونی ہے۔ ایک مسودہ پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا ممکنہ راستہ بھی شامل ہے۔ اسی منصوبے کے تحت وزیر خارجہ گدعون سار نے کہا ہے کہ اسرائیل ایسی کوئی ریاست قائم ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کا یہ بیان ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان فون پر ہوئی گفتگو کے بعد سامنے آیا۔ گدعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے کہا، ’’اسرائیل اپنے ہی قلب میں، اس کے تمام آبادی والے علاقوں سے نہ ہونے کے برابر فاصلے پر، اور اس کے جغرافیائی خطے کے اندر ایک فلسطینی دہشت گرد ریاست کے قیام پر کبھی رضامند نہیں ہوگا۔‘‘
روس نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو کیا چیلنج
جمعرات کے روز یو این ایس سی میں روس نے امریکی تجویز کے خلاف اپنا ڈرافٹ ریزولوشن پیش کیا۔ روس نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو چیلنج کیا۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کی تجویز دشمنی کو مکمل ختم کرنے اور توازن قائم رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس دوران امریکہ نے ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانا ضروری قرار دیا۔ یو این ایس سی میں امریکہ نے کہا کہ اگر ان کی تجویز نافذ نہ کی گئی تو فلسطین کا انجام بہت خراب ہوگا۔
امریکی تجویز کو جلد منظور کرنے کی درخواست
ریاست ہائے متحدہ نے مصر، سعودی عرب اور ترکی سمیت عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر جمعہ کے روز سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرنے والی امریکہ کی زیرِ قیادت تجویز کو جلد از جلد منظور کرے۔
مشترکہ بیان میں تجویز کی فوری منظوری کا مطالبہ
ایک مشترکہ بیان میں امریکہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، اردن اور ترکی نے کہا کہ وہ اس وقت کونسل کے سامنے موجود مسودہ تجویز کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی’فوری منظوری‘کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


