Bharat Express DD Free Dish

Palestinians struggle to feed their families : بھوک اور پیاس کے سبب بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی ہوسکتی ہے موت،60 دنوں سے خوراک کی ترسیل پر اسرائیلی پابندی

فلسطینی رہنماؤں اور مقامی آبادی نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس بحران کا حل نکالا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کے لوگ نہ صرف خوراک کی کمی بلکہ پانی اور ادویات کی قلت کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے تقریباً 60 دنوں سے غزہ میں خوراک کی ترسیل روک رکھی ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی اپنے خاندانوں کو کھانا فراہم کرنے کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس پابندی نے غزہ کے رہائشیوں کے لیے زندگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں پہلے ہی بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہے۔ امدادی تنظیمیں اور مقامی لوگ اس صورتحال کو “انسانی بحران” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ بھوک اور غذائی قلت کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

غزہ کے بہت سے خاندان اب روزانہ ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے حاصل کر پاتے ہیں۔ دکانیں خالی ہو چکی ہیں اور جو کچھ دستیاب ہے وہ ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کسانوں اور ماہی گیروں کو بھی اپنا کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، جس سے مقامی پیداوار تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے فلسطینیوں کو مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جو اب بند ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بحال کرے۔ تاہم، اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں بچوں اور بوڑھوں کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو بڑے پیمانے پر بھوک سے اموات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

فلسطینی رہنماؤں اور مقامی آبادی نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس بحران کا حل نکالا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کے لوگ نہ صرف خوراک کی کمی بلکہ پانی اور ادویات کی قلت کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس طویل عرصے کی ناکہ بندی نے ان کے صبر اور برداشت  انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ عالمی سطح پر اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے کب اور کیسے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read