Pakistan Drone attacks Karachi to Lahore: پاکستان میں ایئرڈیفنس سسٹم پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ اس کا نظارہ جمعرات کے روزدیکھنے کوملا، جب لاہورسے لے کرکراچی تک کئی بڑے شہروں میں زبردست ڈرون حملے ہوئے۔ پاکستان حکومت کے مطابق، اب تک 25 ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ لاہور، کراچی اورراولپنڈی میں تین بڑے ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ اس میں پاکستان کو بڑا نقصان ہوا ہے۔
ان تینوں ہی شہروں میں ڈرون حملے سے پاکستان میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ راولپنڈی، لاہوراورکراچی میں آرمی کا کیمپ ہے۔ راولپنڈی میں تو آرمی کیمپ کوہی اڑا دیا گیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق، کراچی میں ڈرون دھماکہ ہوا ہے۔ ڈرون دھماکہ کے بعد پورے علاقے میں افراتفری کا ماحول ہے۔ فوج نے علاقے کواپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ کراچی میں ہی پاکستان کے سبھی نیوکلیئربم اسٹورہیں۔ ایسے میں جس طرح سے کراچی میں ڈرون دھماکہ ہوا ہے، اس نے پاکستان کی سیکورٹی سسٹم پرسوال اٹھا دیا ہے۔ کراچی دھماکہ کوسیکورٹی میں بڑی سیندھ بتایا جا رہا ہے۔ خبروں میں کہا گیا ہے کہ لاہورمیں نیوی بیس کے پاس اورکراچی میں آرمی بیس پردھماکے ہوئے ہیں۔
اب تک 12 شہروں میں ڈرون حملے
پاکستان کے کراچی، گنجرا والا، لاہور، چکوال اورگھوٹکی سمیت 12 شہروں میں ڈرون حملہ ہوا ہے۔ ڈرون حملہ کی وجہ سے ان علاقوں میں ایمرجنسی کے حالات ہیں۔ یہ ڈرون کہاں سے آیا ہے، اب تک پاکستان نے اس پرکچھ نہیں کہا ہے۔ نہ ہی ڈرون حملے سے متعلق کسی نے ذمہ داری لی ہے۔ سب سے زیادہ تین ڈرون دھماکے لاہورمیں ہوئے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق، کل 12 دھماکے اب تک پاکستان میں ہوچکے ہیں۔ لاہورمیں فوجی ٹھکانوں کے پاس ہی ڈرون دھماکہ کی خبر ہے۔
ایئرڈیفنس سسٹم پوری طرح سے ناکام
ڈرون دھماکے کو روکنے میں پاکستان کا ایئرڈیفنس سسٹم پوری طرح ناکام نظرآرہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بدھ کے روزایوان میں پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان کی فضائیہ کی جم کرتعریف کی تھی۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ مضبوطی سے میدان میں ڈٹی ہے۔ وزیراعظم کی تعریف کے فوراً بعد پاکستان آرمی کے سربراہ عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
