Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Army Chief Asim Munir : پاکستان میں ’ضیاء‘ دور کو واپس لانے کی تیاری، جنرل منیر کو بے پناہ اختیارات دینے کے لیے آئینی ترمیم متوقع

پاکستان ایک بار پھر اُس دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جب ملک میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی تھی اور اصل طاقت فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی حکومت آئین میں ایسی بڑی ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔

اسلام آباد : پاکستان ایک بار پھر اُس دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جب ملک میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی تھی اور اصل طاقت فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستان کی حکومت آئین میں ایسی بڑی ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور کی یاد تازہ کر دی ہے، جب فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوری اداروں کو مفلوج کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جسے اس ہفتے پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس ترمیم کے بعد آرمی چیف کو تینوں افواج زمینی، بحری اور فضائیہ کا سربراہ قرار دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ایٹمی ہتھیاروں کی کنجی بھی براہِ راست جنرل منیر کے ہاتھ میں ہوگی۔

ترمیم کے تحت جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا منصب چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) متعارف کرایا جائے گا، جو براہِ راست آرمی چیف کے پاس ہوگا۔ اس اقدام سے منیر نہ صرف دفاعی اداروں کے سربراہ ہوں گے بلکہ ملک کے سپریم کمانڈر کی حیثیت بھی اختیار کر لیں گے۔ ناقدین کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان کو پچاس سال پیچھے لے جائے گی، جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر آمریت مسلط کی تھی۔

پاکستان کے آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں اس کے لیے کم از کم 64 ووٹ درکار ہیں۔ حکمران اتحاد کے پاس فی الحال 65 ووٹ ہیں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے 26، مسلم لیگ (ن) کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، متحدہ قومی موومنٹ کے 3، عوامی نیشنل پارٹی کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے ایک ایک ووٹ اور 7 آزاد اراکین کے ووٹ شامل ہیں۔ تاہم، پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق، ان نمبروں کے باوجود ترمیم کی منظوری یقینی نہیں ہے۔ سینٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی ووٹ نہیں ڈال سکتے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عرفان صدیقی علیل ہونے کے باعث اسپتال میں داخل ہیں، لہٰذا ان کا ووٹ بھی غیر یقینی ہے۔

دوسری جانب 336 رکنی قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ اسمبلی میں حکومت کے پاس 233 ارکان ہیں، جبکہ اپوزیشن کے پاس 103 سیٹیں ہیں۔ حکمران اتحاد میں مسلم لیگ (ن) کی 125، پیپلز پارٹی کی 74، متحدہ قومی موومنٹ کی 22، مسلم لیگ (ق) کی 5، استحکامِ پاکستان پارٹی کی 4 اور بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ز) کی ایک ایک نشست شامل ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان ایک بار پھر فوجی تسلط کے شکنجے میں جکڑ جائے گا۔ اس سے نہ صرف جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور دفاعی پالیسیوں پر بھی فوج کی مکمل گرفت قائم ہو جائے گی۔ عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے یا ایک نئے آمرانہ دور میں داخل ہونے والا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read