Bharat Express DD Free Dish

Asim munir pak army chief

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایک جانب سعودی عرب نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار ہونے والے کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا، تو دوسری جانب سعودی عدالتوں نے منشیات کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک متنازع آئینی ترمیم منظور کر لی جس کے تحت صدر مملکت اور موجودہ آرمی چیف کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہو گیا ہے۔ اس ترمیم کو اپوزیشن نے جمہوری اداروں پر ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور سول بالادستی دونوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

پاکستان ایک بار پھر اُس دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جب ملک میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی تھی اور اصل طاقت فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی حکومت آئین میں ایسی بڑی ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

امریکی دورے کے دوران جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو وجود کا خطرہ لاحق ہوا تو وہ خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتا ہے، مزید یہ بھی کہا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کی کوشش کی تو پاکستان اسے ’’ہر قیمت پر‘‘ روکے گا۔  وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی ایٹمی بلیک میل کے آگے جھکنے والا نہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔

پاکستان کے سرکاری موقف نے اس دعوے کی حمایت نہیں کی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دہشت گردوں یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ نہیں دیتا اور حالیہ دہشت گردی کے مسائل کو ماضی کی امریکی اتحادوں سے جوڑا۔

ابھی چند روز قبل بی ایل اے نے جعفر ایکسپریس ٹرین کو بھی ہائی جیک کیا تھا، اس حوالے سے بھی حکومت اور باغیوں کے اعداد و شمار میں بڑا فرق ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔ لیکن پاکستان میں بلوچ جنگجوؤں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔

اس فضائی حملے کے بعد علاقے میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، قستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستانی افواج پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان نے افغان طالبان پر ان دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوج کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر جیل سے خط لکھ کرآرمی کے خلاف سنگین الزام لگائے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ فوج کے لئے اب ان کا قتل کرنا باقی رہ گیا ہے۔