ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما اور پنجاب کی انفارمیشن منسٹر عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی آپریشن، جو بھارت کے خلاف تھا، سابق وزیراعظم نواز شریف کی براہ راست نگرانی میں تیار کیا گیا۔ یہ آپریشن مبینہ طور پر بھارت کے حالیہ حملوں کے جواب میں تھا، جو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردی کے ڈھانچوں پر کیے گئے۔ یہ دعویٰ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس نے پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں خاصی توجہ حاصل کی۔
ہندوستان ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ یہ بیان 14 مئی 2025 کو ایک پریس کانفرنس میں دیا گیا، لیکن رپورٹ میں کوئی ویڈیو یا آڈیو ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جو اس دعوے کی براہ راست تصدیق کر سکے۔ مزید برآں، دیگر معتبر ذرائع جیسے کہ بی بی سی، رائٹرز، یا الجزیرہ نے اس مخصوص دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے “آپریشن بنیان مرصوص” کے بارے میں بات کی، لیکن نواز شریف کی براہ راست شمولیت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جواس سے دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھتے ہیں، کیونکہ اسے ایک سیاسی رہنما کی جانب سے بغیر ٹھوس ثبوت کے بیان کیا گیا۔
نواز شریف، جو تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، نے حالیہ دنوں میں سفارتی حل کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے 10 مئی 2025 کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “پاکستان امن پسند ملک ہے اور امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اپنے دفاع کا طریقہ بھی جانتا ہے۔” یہ بیان ان کے مبینہ طور پر فوجی آپریشن کی نگرانی کے دعوے سے متصادم ہے، کیونکہ وہ تاریخی طور پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، 1999 کے کارگل تنازع کے دوران، نواز شریف نے امریکی ثالثی کے تحت کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس تناظر میں، عظمیٰ بخاری کا دعویٰ سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے تاکہ نواز شریف کی قیادت کو مضبوط دکھایا جا سکے، لیکن اس کی سچائی پر شک باقی ہے۔
پاکستان کے سرکاری موقف نے اس دعوے کی حمایت نہیں کی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دہشت گردوں یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ نہیں دیتا اور حالیہ دہشت گردی کے مسائل کو ماضی کی امریکی اتحادوں سے جوڑا۔ اسی طرح، وزیراعظم شہباز شریف نے “امن پسندانہ مذاکرات” کی حمایت کی اور کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا۔ یہ بیانات عظمیٰ بخاری کے دعوے سے متضاد ہیں، جو نواز شریف کو فوجی آپریشن کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستانی فوج نے اپنے آپریشن کو بھارت کے “آپریشن سندور” کے جواب کے طور پر پیش کیا، لیکن نواز شریف کی براہ راست شمولیت کا کوئی سرکاری تصدیقی بیان موجود نہیں ہے۔
فیکٹ چیک کے بعد، عظمیٰ بخاری کا دعویٰ کہ نواز شریف نے بھارت کے خلاف فوجی آپریشن کی نگرانی کی، غیر مصدقہ اور مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان ٹائمز نے اس دعوے کی اطلاع دی، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت جیسے کہ سرکاری دستاویزات یا فوجی بیانات اس کی حمایت کرتے ہیں۔ نواز شریف کا حالیہ سفارتی موقف اور پاکستانی سرکاری بیانات اس دعوے کے برعکس ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ بیان سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا ہو تاکہ مسلم لیگ کے اندر نواز شریف کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ لہٰذا، اس دعوے کو فی الحال غیر ثابت شدہ اور ممکنہ طور پر گمراہ کن سمجھا جانا چاہیے جب تک کہ مزید معتبر ثبوت سامنے نہ آئیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



