Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن بھی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نیدرلینڈز میں بھارت کے سفیر کمار توہن نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں میں مختلف شعبوں میں تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس دورے کا مقصد صرف سفارتی روایات کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا بھی ہے۔

نئی دہلی میں جمعرات کے روز ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روسی وزیر خارجہ دو روزہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر موجود ہیں۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔