Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک سنی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے ایران کو ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی تھی۔

پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک غیر معمولی دور جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اگرچہ پہلے بہت اچھے نہیں تھے لیکن اس سے پہلے کبھی بھی حالات اتنے خراب نہیں ہوئے تھے۔

امریکہ میں اس سال صدرارتی الیکشن ہونا ہے۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی دعویداری کر ہرے ہیں۔ وہ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ ٹرمپ اقتدار میں آتے ہیں یا نہیں یہ تو الیکشن کے جب نتائج آئیں گے، تب معلوم ہوگا، لیکن کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ابھی سے گھبرانے لگے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے بلوچستان میں کوہ سبز نامی علاقے میں جیش العدل کے دو ٹھکانوں پر حملہ کر کے تباہ کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ حماس کو فی الحال ختم کرنا یا اس جنگ کا خاتمہ مستقبل قریب میں ممکن نہیں ہے چونکہ حماس ابھی بھی جوان ہے۔اور اسی لئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو  یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ 2025ء تک جاری رہ سکتی ہے۔

پاکستان نے ایرانی حملے پر شدید احتجاج کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے متعلقہ اعلیٰ عہدیدار کے سامنے کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر ایرانی سفارتکار کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ بلوچی دہشت گرد گروپ جیش العدل کے دوٹھکانوں کومیزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ایک دن پہلے ایران کے اس سے ایک روز قبل ایران کے  پاسداران انقلاب کی جانب سے عراق اور شام میں اہداف پرمیزائل گرائے گئے تھے۔

امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے لووا میں شاندار جیت حاصل کی ہے۔ وہیں، لووا میں ملی شکست کے بعد ہندوستانی نژاد وویک راما سوامی نے خود کو صدرارتی الیکشن کی دوڑ سے باہرکرلیا ہے۔

کردستان کی حکومت کی سلامتی کونسل نے اس حملے کو جرم قرار دیا ہے، جب کہ عراقی سکیورٹی اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کروڑ پتی کرد تاجر پیشراؤ ڈیزائی اور ان کے خاندان کے کئی افراد شامل ہیں۔

اسرائیل اورحماس کے درمیان جاری جنگ تھمتی ہوئی نظرنہیں آرہی ہے۔ اس درمیان امریکہ نے اسرائیل کو خاص نصیحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی حملے کو کم کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔