Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

صدر ٹرمپ نے اس تجویز کی مخالفت کرنے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن لیڈروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکاوسکی کا نام لیتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

بدھ کے روز وینزویلا میں مسلسل دو زلزلے آئے جن کی شدت بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ ان زلزلوں سے شمالی وسطی ریاست لا گوئیرا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جبکہ دارالحکومت کاراکاس اور اس کے مضافاتی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق تقریباً 200 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

فریبہ بلوچ نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک عالمی سطح کی کارکن کو عمر قید کی سزا سنایا جانا تشویشناک ہے۔ 

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی منظور شدہ گزرگاہیں قابل قبول ہوں گی۔ عمان کے مجوزہ عارضی بحری راستے پر اعتراض۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ امدادی اور بچاؤ کی ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں 39 سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ دارالحکومت کراکس (Caracas) سمیت کئی علاقوں میں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔…

برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کے لیے تیار ہو گیا ہے، لیکن ایران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جوہری نگرانی، پابندیوں میں نرمی اور ایٹمی پروگرام پر عائد کی جانے والی حدود کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی شدید تعطل برقرار ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے خطۂ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر عدم استحکام اور تنازع کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔