Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

روسی حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ حملے کا اصل ہدف کون تھا، لیکن ماسکو میں اس واقعے کو یوکرین جنگ سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ریستوران ماسکو کی اسٹالن دور کی مشہور بلند عمارتوں میں سے ایک میں واقع ہے۔

زلزلے کے بعد ہونے والے ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد کو نکالا گیا۔ ان میں سے سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ زخمی ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں اب بھی عمارت کے اندر ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔صوبائی حکام کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں قائم 406 امدادی پناہ گاہوں میں 9 ہزار 400 سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں،

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد اطراف کی متعدد سڑکیں، جن میں قریبی پل بھی شامل ہے، بند کر دی گئی ہیں۔ گاڑی چلانے والوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور بند علاقے میں داخل ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکام نے کہا کہ حملہ آور یا حملہ آوروں کی تعداد، شناخت اور کسی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

اٹلی، جرمنی، ڈنمارک سمیت 24 یورپی ممالک نے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سیوٹا بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ایران نے سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو اس کا جواب نہایت شدید ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایران نے اپنے ممکنہ حملوں کے لیے چھ مقامات کی ایک مبینہ فہرست بھی جاری کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے جوابی حملوں کی لپیٹ میں بحرین، سعودی عرب اور کویت سمیت خطے کے کئی اہم مقامات آ سکتے ہیں۔

ایف-35 بی امریکی میرین کور کا جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے، جو شارٹ ٹیک آف اینڈ ورٹیکل لینڈنگ (STOVL) صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ محدود رن وے یا مخصوص مقامات سے بھی پرواز بھرنے اور عمودی انداز میں لینڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق او سی ایچ اے نے بتایا کہ تالابوں، پمپنگ اسٹیشنوں، ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی تنصیبات کی تباہی سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ زراعت اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ اکیس ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقوں میں واپس آ چکے ہیں،

سیوٹا کے مقامی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 60 ہزار مہاجرین خشکی اور سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق علاقے تک تیر کر پہنچنے کی کوشش کے دوران 57 مہاجرین ہلاک ہو گئے۔

بلوچ وائس فار جسٹس نے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرین و ان کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔