Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

حکام نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کے دوران جمع کرائے گئے ہتھیار نہ تو اسرائیل اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے، بلکہ یہ تمام ہتھیار عبوری فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رہیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو بلغاریہ اور قبرص پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی سرزمین پر موجود فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو وہ سلامتی حاصل ہوگی جس کا وہ حقدار ہے، جبکہ غزہ کو آئندہ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کے لیے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بنگلہ دیش میں 2024 کے سیاسی بحران کے دوران جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اب اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کی یاد دلائی اور خبردار کیا کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطے میں عوامی جمہوریہ چین (پیپلز ریپبلک آف چائنا) کی مبینہ ’گرے زون‘ حکمتِ عملی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

یورو نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ تارناؤا کولونیا کے علاقے کے رہائشیوں نے جمعرات کی صبح تقریباً چار بجے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، جس سے گھروں کی کھڑکیاں تک لرز اٹھیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے ایک کھیت میں تقریباً دس میٹر چوڑا گڑھا اور کسی نامعلوم شے کا ملبہ برآمد کیا۔ یہ مقام رہائشی علاقے سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ہے۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔

پولیس افسر طارق حبیب نے بدھ کی دیر رات مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔

ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے اثرات اب عراق تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملے میں عراق کے متعدد علاقوں پر بمباری کی گئی۔